
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کوہدایت دی ہے کہ وہ مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کی اسپیشل انٹینسیوریویژن (ایس آئی آر) مہم کے دوران ووٹرلسٹ سے حذف کئے گئے ناموں سے متعلق دائراپیلوں کے نمٹارے کی تفصیلات پیش کرے۔ جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کانگریس رہنما ادھیررنجن چودھری کی عرضی پرالیکشن کمیشن کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ ادھیررنجن چودھری نے اپنی عرضی میں مطالبہ کیا تھا کہ مغربی بنگال کے ہربلاک میں ایس آئی آرسے متعلق ٹریبونل قائم کئے جائیں اورووٹرلسٹ سے نام حذف کیے جانے کے خلاف دائر اپیلوں کا مقررہ وقت میں نمٹارا کیا جائے۔
سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے ان معاملات کی تفصیلات طلب کی ہیں، جنہیں اپیلیٹ ٹریبونلزنے اب تک نمٹایا ہے۔ ان ٹریبونلزکومغربی بنگال میں ایس آئی آرکے دوران ووٹرلسٹ سے نام حذف کئے جانے کے خلاف دائردرخواستوں کی سماعت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگراپیلوں کی سماعت اسی رفتارسے جاری رہی توان کے نمٹارے تک اگلا الیکشن آجائے گا۔ جسٹس باغچی نے بھی کہا کہ صرف اپیلیں دائرہونا کافی نہیں ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ کتنی اپیلوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹریبونلزکی کارکردگی کی تفصیلات طلب
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگران ٹریبونلزکی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں ہے توان کے کام کرنے کے طریقہ کارمیں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں کافی وقت گزرچکا ہے، اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اب تک کتنے معاملات کا نمٹارا کیا گیا ہے۔ عدالت کی اس سخت تبصرے کے بعد مغربی بنگال حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں مکمل اعداد وشمارعدالت کے سامنے پیش کریں گے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 25 اگست کوہوگی۔
ججوں کے زبانی تبصروں کے غلط استعمال پربھی نوٹس
دوسری جانب، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے ججوں کے سماعت کے دوران کئے گئے زبانی تبصروں اوراشاروں کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پربھی نوٹس جاری کیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالتوں میں سماعت کے دوران ججوں کی جانب سے کئے گئے زبانی تبصروں اوربعض اشاروں کوغلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عرضی میں ملک میں بڑی تعداد میں فرضی وکلا اورجعلی قانونی ڈگریوں کی موجودگی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے اوراس معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پی آئی ایل پرمرکزی حکومت، وزارتِ الیکٹرانکس وانفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY)، بارکونسل آف انڈیا اورسی بی آئی کونوٹس جاری کیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 10 ستمبرکوہوگی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







