
نئی دہلی : امریکی انتظامیہ کے سینئر حکام کے مطابق بین الاقوامی حمایت یافتہ ایک نئے روڈ میپ کے تحت حماس نے غزہ میں اپنی سول اور عسکری دونوں نوعیت کی حکمرانی سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مرحلہ وار امن عمل کے ذریعے غزہ کا انتظام ایک عبوری فلسطینی انتظامی ڈھانچے کے سپرد کیا جائے گا، جس کا مقصد خطے میں پائیدار امن اور مؤثر حکمرانی کا قیام ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن کے لیے اپنی نئی پہل کے تحت اس تجویز کا اعلان کیا۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد غزہ میں حماس کے حکومتی ڈھانچے کا خاتمہ اور اس کی جگہ ایک غیر جانبدار فلسطینی انتظامیہ کا قیام ہے۔روڈ میپ کے مطابق غزہ کا سول انتظام اور داخلی سلامتی ایک آزاد فلسطینی قومی کمیٹی کے سپرد کی جائے گی، جو عبوری مدت کے دوران علاقے کی مکمل انتظامی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ حماس نے ایسے بین الاقوامی فریم ورک کو قبول کیا ہے، جس کے تحت وہ حکمرانی سے الگ ہوگی اور نئی فلسطینی انتظامیہ غزہ کا نظم و نسق سنبھالے گی۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ تمام سول اور سیکیورٹی اختیارات قومی کمیٹی کو منتقل کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں کو چلانے، بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی، قانون و نظم برقرار رکھنے اور غزہ میں حکومتی امور کی واحد مجاز اتھارٹی ہوگی۔ اس کے علاوہ تعمیر نو کے آغاز سے قبل غزہ کے مالی اور انتظامی معاملات کا مکمل آڈٹ بھی کیا جائے گا۔سینئر امریکی حکام کے مطابق عبوری قومی کمیٹی آزادانہ طور پر کام کرے گی اور کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کو اس کے کام میں مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی۔یہ روڈ میپ “ایک حکومت، ایک قانون، ایک ہتھیار” کے اصول پر مبنی ہے، تاکہ غزہ میں متوازی حکومتی اور مسلح ڈھانچوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ منصوبے کے مطابق صرف قومی کمیٹی ہی اسلحے کے ضابطے، لائسنس کے اجرا اور پولیس اختیارات استعمال کرنے کی مجاز ہوگی۔
روڈ میپ میں عبوری دور کے دوران بدامنی سے بچنے کے لیے تمام فلسطینی گروپوں سے ایک سول امن معاہدے پر دستخط کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کے تحت انتقامی حملوں، مسلح پریڈ، ہتھیاروں کی نمائش اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی ہوگی جو اقتدار کی منتقلی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ داخلی سلامتی سے متعلق تمام کارروائیاں صرف قومی کمیٹی اور اس کی پولیس فورس انجام دے گی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک ایسی تکنیکی اور غیر سیاسی فلسطینی انتظامیہ قائم کرنا ہے جو حماس اور موجودہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر غزہ کا انتظام سنبھال سکے۔ اس عبوری ڈھانچے میں غزہ، مغربی کنارے (ویسٹ بینک) اور بیرون ملک مقیم فلسطینی ماہرین کو شامل کیا جائے گا تاکہ سرکاری اداروں کی بحالی اور بنیادی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام نے مزید بتایا کہ مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کے سیاسی کردار کا امکان بھی موجود رہے گا، تاہم یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب وہ مجوزہ امن فریم ورک کے تحت مطلوبہ اصلاحات مکمل کرے گی۔ عبوری مدت میں قومی کمیٹی، فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے غزہ کے انتظام و انصرام کی ذمہ دار ہوگی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں اس معاہدے کو غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے غزہ بالآخر ایسی فلسطینی حکومت کے زیر انتظام ہوگا جو اپنے عوام کی خدمت کرے گی اور امن کے لیے قائم بین الاقوامی شراکت داری کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔







