
نئی دہلی : دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے کچھ طلبہ کے خلاف درج کی جا رہی ایف آئی آر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سوربھ داس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اس ملک میں گالی دینا کب سے فوجداری جرم بن گیا اور پولیس نوجوانوں کو نشانہ کیوں بنا رہی ہے؟طلبہ کے احتجاج کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز سامنے آئی تھیں، جن میں بعض مظاہرین مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے نظر آئے۔ ان ویڈیوز کی بنیاد پر پولیس نے تحقیقات شروع کی ہیں اور سوشل میڈیا پر موجود ہزاروں ویڈیوز کی جانچ کے بعد ایسے طلبہ کی شناخت کی جا رہی ہے جو مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرتے ہوئے کیمرے میں ریکارڈ ہوئے۔ اسی سلسلے میں نوئیڈا کی ایک طالبہ کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
नीशू (जो लड़की जंतर-मंतर पर मोदी के तेरहवीं का समोसा खिला रही थी और गाली-गलौच कर रही थी) को उसके मकान मालिक ने गांव पर लात पर मारकर अपने किराए के कमरे से बाहर कर दिया है.
😂😂😂 pic.twitter.com/cJ3C6hwA1k— Saggi (@realsaggi) July 30, 2026
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے سوربھ داس نے کہا، “آپ ایک لڑکی کو نشانہ بنا کر مثال قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کو ٹارگٹ کرنا بند کیجیے۔ پولیس جس طرح ان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، وہ درست نہیں ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی کو ان الفاظ سے واقعی تکلیف پہنچی ہے تو وہ قانونی طور پر ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر سکتے ہیں، لیکن پولیس اور فوجداری نظام کا استعمال صرف نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔سوربھ داس نے عدلیہ سے بھی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو چاہیے کہ مذکورہ طالبہ کو تحفظ فراہم کرے۔ ان کے مطابق احتجاج کے دوران کسی کی زبان نامناسب ہو سکتی ہے، اس کی مذمت کی جا سکتی ہے، لیکن اس بنیاد پر نوجوانوں کے خلاف فوجداری کارروائی کرنا مناسب نہیں۔انہوں نے کہا، “اگر کسی نے احتجاج کے دوران گالی دی ہے تو اس کی تنقید کی جا سکتی ہے، مگر پورے فوجداری نظام کو استعمال کرکے بچوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ اس ملک میں لوگ روزمرہ زندگی میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔”
سوربھ داس نے اپنی تنقید کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں موجود کئی ارکانِ پارلیمنٹ کے خلاف سنگین فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان کے مطابق قتل، عصمت دری اور ڈکیتی جیسے مقدمات کا سامنا کرنے والے عوامی نمائندے بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں، لیکن ان کے خلاف اس شدت سے کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ چند نازیبا الفاظ بولنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کے معاملے میں پولیس مختلف ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ اس پر اظہارِ رائے کی آزادی، احتجاج کے حق اور قانون کے استعمال سے متعلق نئی بحث بھی چھڑ گئی ہے۔







