
ئی دہلی :سپریم کورٹ نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامیوں پر مبینہ لاٹھی چارج کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بدھ کے روز ایک وکیل نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ کے سامنے درخواست پیش کرتے ہوئے پولیس کارروائی پر فوری سماعت کی اپیل کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، “ہمیں ویڈیو دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، ہمارے پاس انہیں دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔” جب وکیل نے دوسری مرتبہ طلبہ کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کی ویڈیوز دیکھنے کی درخواست کی تو چیف جسٹس نے کہا، “ہمارا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں۔”
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب سی جے پی کے احتجاج اور پولیس کارروائی کو لے کر سیاسی اور قانونی سطح پر بحث جاری ہے۔ یاد رہے کہ 15 مئی کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ “کچھ بے روزگار نوجوان کاکروچ کی طرح ہوتے ہیں، جو بعد میں میڈیا، سوشل میڈیا یا آر ٹی آئی کارکن بن کر نظام پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔” اس تبصرے کے بعد ابھیجیت دیپکے نے انسٹاگرام پر “کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے اکاؤنٹ بنایا تھا، جس کے بعد یہ مہم تیزی سے مقبول ہوئی۔20 جولائی کو سی جے پی نے پارلیمنٹ مارچ کا انعقاد کیا تھا، جس میں ہزاروں مظاہرین پارلیمنٹ کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس میں اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد پولیس اہلکار اور طلبہ زخمی ہوئے تھے۔ اسی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ میں مفادِ عامہ کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
دہلی ہائی کورٹ نے بھی سی جے پی کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے کی سماعت پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق بدھ کے روز ہی کی جائے گی۔دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دہلی میٹرو کے جن پتھ، راجیو چوک، پٹیل چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ سمیت 16 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے اگلے احکامات تک بند کر دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام قانون و نظم برقرار رکھنے اور حساس علاقوں میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی طور پر اٹھایا گیا ہے، جبکہ انٹرچینج کی سہولت حسب معمول جاری رہے گی۔





