
نئی دہلی :پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی پہنچے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کی بیٹی اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے بھی موجود تھیں۔ وزیر اعظم نے شرد پوار کا گرمجوشی سے استقبال کیا، جبکہ ملاقات کے دوران شرد پوار نے اپنے ساتھ لائے گئے چند دستاویزات اور خطوط بھی وزیر اعظم کے حوالے کیے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آئیں، تاہم اس ملاقات نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل شرد پوار جنتر منتر میں جاری سی جے پی کے احتجاجی مظاہرے میں بھی شریک ہوئے تھے اور وہاں انہوں نے احتجاجی رہنما ابھجیت دیپکے سے ملاقات کی تھی۔ ایسے میں ان کی وزیر اعظم سے ملاقات کو مختلف سیاسی زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور شرد پوار کے تعلقات ہمیشہ سیاسی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ ذاتی سطح پر دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار تعلقات اور باہمی احترام کی بات کی جاتی ہے، لیکن انتخابی سیاست میں دونوں ایک دوسرے پر سخت تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔سال 2014 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے دوران نریندر مودی نے این سی پی کو “قدرتی طور پر بدعنوان پارٹی” قرار دیتے ہوئے شرد پوار اور اجیت پوار کی جوڑی کو اقتدار سے باہر کرنے کی اپیل کی تھی۔ اسی طرح 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران وزیر اعظم نے نام لیے بغیر شرد پوار کو “بھٹکتی ہوئی روح” قرار دیا تھا۔ دوسری جانب شرد پوار بھی مودی حکومت کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر وزیر اعظم مودی کا موازنہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے کرتے ہوئے ملک میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کا الزام لگایا تھا، جبکہ مودی کا موازنہ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے کیے جانے پر بھی اعتراض ظاہر کیا تھا۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی، شرد پوار اور سپریا سولے کی مسکراتی ہوئی تصاویر سامنے آنے کے بعد سیاسی قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندی (پریسیمن) بل پر حکومت کو این سی پی (ایس پی) کے آٹھ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہو سکتی ہے، اس لیے اس ملاقات کو اسی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔سپریا سولے پہلے ہی اشارہ دے چکی ہیں کہ اگر نشستوں میں 50 فیصد اضافے کی تحریری ضمانت دی جاتی ہے تو ان کی جماعت اس بل کی مشروط حمایت پر غور کر سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے این ڈی اے میں شامل ہونے یا کسی بھی قسم کے انضمام کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ اس کے باوجود شرد پوار کی حالیہ ملاقات نے ان کے آئندہ سیاسی فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دے دی ہے۔






