
نئی دہلی : بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، جس کے دوران لاٹھی ڈنڈوں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ اس تصادم میں دونوں جماعتوں کے متعدد کارکن زخمی ہوگئے، کئی افراد کے سر پھٹ گئے جبکہ مشتعل کارکنوں نے کئی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ ڈالے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی۔یہ ہنگامہ اس وقت پیش آیا جب وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے دھرنے کے خلاف بی جے پی نے احتجاجی مارچ نکالا۔ یہ مارچ کرجی اسپتال سے شروع ہو کر کانگریس کے ریاستی دفتر تک جانا تھا، تاہم کانگریس دفتر کے قریب دونوں جماعتوں کے کارکن آمنے سامنے آ گئے، جس کے بعد معمولی تلخ کلامی نے پرتشدد جھڑپ کی شکل اختیار کر لی۔
عینی شاہدین کے مطابق تصادم کے دوران دونوں جانب سے لاٹھی ڈنڈوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا۔ کئی کارکن ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہوئے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوگئے۔ جھڑپ کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور ان کے شیشے توڑ دیے گئے۔کانگریس کے ریاستی صدر راجیش رام نے الزام لگایا کہ اس واقعے میں پولیس نے غیرجانبدارانہ کردار ادا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ملی بھگت کے باعث بی جے پی کارکنوں کو کھلی چھوٹ دی گئی اور کارروائی یکطرفہ انداز میں کی گئی۔ دوسری جانب بی جے پی کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ وہ پرامن احتجاج کے لیے نکلے تھے، لیکن کانگریس کے کارکنوں نے ان پر اچانک حملہ کر دیا، جس کے بعد حالات بے قابو ہوگئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والوں میں بی جے پی کارکنوں کی تعداد زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر کرجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت کا جائزہ لینے کے بعد ضرورت پڑنے پر انہیں بہتر علاج کے لیے دوسرے اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔اس دوران پولیس اہلکار بھی جھڑپ کی زد میں آئے اور پتھراؤ کے نتیجے میں چند اہلکار زخمی ہوگئے۔ موقع پر موجود پولیس افسر کومل مینا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے پیشگی اطلاع کے بغیر صداقت آشرم کے گھیراؤ کے لیے مارچ نکالا تھا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کیا۔ ان کے مطابق حالات اب قابو میں ہیں، تاہم پتھراؤ میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں کچھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس نے بتایا کہ واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور ثبوتوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شرپسند عنصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔





