
رام پور: جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ وفد نے اساتذہ اور احتجاجی طلبہ کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفد میں شامل افراد نے یونیورسٹی انتظامیہ، مقامی سماجی رہنماؤں اور اعظم خان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ وفد نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف انہدامی کاروائی پر روک لگانے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے اترپردیش کی گورنر کو ایک یادداشت بھی پیش کی۔ جماعت اسلامی ہند نے اترپردیش حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ یونیورسٹی کیمپس میں کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی نہ کی جائے۔
انہدامی کاروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند نے میمورنڈم کے ذریعے جو اہم مطالبات پیش کیے ہیں ۔ان میں حکومت سے انہدامی کاروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ شامل ہے۔ جماعت اسلامی ہند نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت نے کہا کہ 30 جولائی 2026 کی مقررہ آخری تاریخ قریب ہے، اگر انتظامیہ اپنے انہدامی فیصلے پر عمل کرتی ہے تو یہ طلبہ برادری کے لیے سنگین نا انصافی ہوگی۔ اس سلسلے میں ریاست کی گورنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند نے کہا ہے کہ وہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ اور اس ادارے کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
معاملے کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ انہدامی حکم کی قانونی حیثیت اور یونیورسٹی کی جانب سے اٹھائے گئے دائرۂ اختیار سے متعلق اعتراضات کا فیصلہ قانون کے مطابق عدالتی عمل کے ذریعے کیا جا سکے۔ وفد نے تقریباً 3,000 طلبہ کے مستقبل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ان میں بڑی تعداد معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کی ہے جو فیس میں رعایت حاصل کرکے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وفد نے کہا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کا انہدام درحقیقت پورے ادارے کو تباہ کر دے گا اور ہزاروں طلبہ کو ایک اہم تعلیمی ادارے سے محروم کر دے گا، جو آئینِ ہند کے آرٹیکل 30 کے تحت حاصل شدہ حقوق کے مطابق قائم کیا گیا ہے۔
ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ نشان؟
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی عرصۂ دراز سے معاشرے کو معیاری تعلیم فراہم کر رہی ہے اور اگر انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی تو اس سے ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ وفد نے یہ بھی کہا کہ ہم یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ معاملہ صرف عمارتوں کے تحفظ کا نہیں بلکہ تعلیم کے حق اور ہمارے بچوں کے مستقبل کا ہے۔ حکومت کو انہدام کے بجائے عمارتوں کو قانونی حیثیت دینے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انتظامی کارروائی کے نتیجے میں کوئی بھی طالب علم تعلیم سے محروم نہ ہونے پائے ۔ جماعت اسلامی ہند کے وفد میں قومی سیکرٹری مولانا محمد شفیع مدنی، محمد احمد، اسسٹنٹ سکریٹری انعام الرحمٰن، مولانا ضمیرالحسن فلاحی، امیر حلقہ یوپی مغرب، مولانا عبدالسلام بستوی، امیر مقامی رامپور اور سینئر صحافی سید خلیق احمد شامل تھے۔






