
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے تیسرے روز بدھ کو راجیہ سبھا میں ایک بار پھر زبردست ہنگامہ ہوا۔ کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) ملکارجن کھڑگے نے اپوزیشن کے متحدہ محاذ کی قیادت کرتے ہوئے مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ کھڑگے نے کہا کہ نیٹ-یو جی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس کے بعد جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر وزیرِ تعلیم کے استعفے تک ایوان میں کوئی بحث یا گفتگو نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے ہنگامہ خیز کارروائی کے دوران کہا ’’نیٹ پر منصفانہ بحث کے لیے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک کوئی بحث نہیں ہوگی۔‘‘
حکومت تمام خدشات پر بحث کے لیے تیار
اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت بحث سے بچنے کی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نیٹ-یو جی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے تمام خدشات پر بحث کے لیے تیار ہے۔ نڈا نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’انڈیا اتحاد کا طرزِ عمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا جمہوریت مخالف رویہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ پارلیمانی وقار کو پامال کیا جا رہا ہے اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیرکرن رجیجو نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت تمام مسائل پر بحث کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق حکومت نیٹ پرچے کے مبینہ افشا اور اس سے متعلق تمام معاملات پر بھی بحث کے لیے تیار ہے۔ نڈا نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت شفاف انداز میں کام کر رہی ہے اور عوام کے مفاد میں فیصلے کرتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی سرگرمیوں کو ’’عوام مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت اور جمہوری اقدار پر یقین نہیں رکھتی۔ ہنگامہ جاری رہنے کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 3 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
اپوزیشن ارکان نے سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا
اس سے قبل اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں حکومت کے خلاف سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔ کانگریس رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات حقیقی ہیں اور وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’تعلیم کا بجٹ 1.4 لاکھ کروڑ روپے ہے، لیکن آپ اڈانی اور امبانی کے 16 لاکھ کروڑ روپے کے قرض معاف کر رہے ہیں۔ طلبہ کی جدوجہد حقیقی ہے اور وہ تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بار بار پرچے افشا ہو رہے ہیں۔ پُرامن احتجاج میں کوئی غیر جمہوری بات نہیں ہے، لیکن طلبہ اور پارلیمنٹ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیر جمہوری ہے۔‘‘
’راہل اور پرینکا کے ساتھ کارروائی کا خمیازہ بھگتنا ہوگا‘
لوک کلیان مارگ کے باہر کانگریس کے احتجاج اور رہنماؤں کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے معاملے پر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ جمہوری حکومت نہیں ہے اور حکومت آمرانہ انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ ارکانِ پارلیمنٹ کا احترام نہیں کرتے۔ جو لوگ قواعد کے مطابق احتجاج کرتے ہیں، انہیں بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ پولیس میں بی جے پی-آر ایس ایس کے کارکن بغیر بیج کے کام کرتے ہیں۔ طلبہ اور کانگریس رہنماؤں کو خوف زدہ کرنا ان کا بالواسطہ طریقہ ہے۔‘‘ کھڑگے نے مزید کہا ’’اگر آپ ہمارے سینئر رہنماؤں کو کچلنے کی کوشش کریں گے تو لاکھوں لوگ کھڑے ہو جائیں گے۔ اس وقت آپ انہیں قابو نہیں کرسکیں گے۔ ہم خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں اور اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ جو کچھ آپ نے کیا ہے، اس پر آپ کو پچھتاوا ہوگا۔ ہم انہیں دکھا دیں گے کہ کانگریس پارٹی اور انڈیا اتحاد اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔‘‘







