
آج کے دور میں خوراک کو طویل عرصے تک تازہ اور محفوظ رکھنے میں فوڈ پیکیجنگ کا اہم کردار ہے۔ دودھ، پھل، سبزیاں، اسنیکس اور تیار شدہ غذائیں ایسی پیکیجنگ کی محتاج ہوتی ہیں جو انہیں ہوا اور نمی سے محفوظ رکھ کر ان کا معیار برقرار رکھے۔ تاہم اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا روایتی پلاسٹک ماحول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، کیونکہ یہ برسوں تک مٹی اور پانی میں موجود رہتا ہے اور آسانی سے تحلیل نہیں ہوتا۔ اسی لیے دنیا بھر کے سائنس دان ایسے متبادل تلاش کر رہے ہیں جو خوراک کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ماحول کو بھی نقصان نہ پہنچائیں۔
اسی سلسلے میں انڈونیشیا کی حسن الدین یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈی دیرپان اور ان کی ٹیم نے ایک نئی بایوڈیگریڈیبل فوڈ پیکیجنگ فلم تیار کی ہے۔ یہ فلم پودوں سے حاصل ہونے والے پلاسٹک پولی لیکٹک ایسڈ (PLA) پر مبنی ہے۔ اس کی مضبوطی بڑھانے کے لیے مائیکرو کرسٹلائن سیلولوز (MCC) جبکہ آکسیجن کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بیوٹائلیٹڈ ہائیڈروکسی ٹولیون (BHT) استعمال کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق 5 مئی 2026 کو آن لائن شائع ہوئی، جبکہ مارچ 2027 میں آسیان جرنل فار سائنس اینڈ انجینئرنگ اِن میٹیریلز کے جلد ششم میں شائع کی جائے گی۔ عام طور پر پی ایل اے کو ماحول دوست پلاسٹک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ قدرتی ذرائع سے تیار ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ تحلیل بھی ہو جاتا ہے، لیکن اس کی سب سے بڑی خامی اس کی نسبتاً کم مضبوطی اور آکسیجن کو مؤثر طریقے سے نہ روک پانا ہے۔ آکسیجن کے رابطے میں آنے سے خوراک جلد خراب ہونے لگتی ہے، اسی لیے سائنس دان عرصے سے ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے جو پی ایل اے کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بنا سکے۔
اس تحقیق کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والا سیلولوز لکڑی یا روایتی فصلوں کے بجائے خمیر شدہ ناریل کے پانی سے حاصل کیا گیا۔ یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے “ناٹا ڈی کوکو” نامی جیلی نما غذائی مادہ تیار کیا جاتا ہے۔ اس دوران بیکٹیریا خالص اور باریک ریشوں والا سیلولوز پیدا کرتے ہیں، جسے صاف کر کے مائیکرو کرسٹلائن سیلولوز پاؤڈر میں تبدیل کیا گیا اور بعد ازاں پی ایل اے فلم میں شامل کیا گیا۔ فلم کو تین باریک تہوں میں تیار کیا گیا، جبکہ بی ایچ ٹی صرف اندرونی دو تہوں میں شامل کیا گیا تاکہ وہ براہِ راست خوراک کے قریب رہ کر آکسیجن کے اثرات کو کم کر سکے۔ تحقیق کے دوران مختلف مقدار میں ایم سی سی شامل کر کے کئی اقسام کی فلموں کا تجربہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ناریل کے پانی سے تیار کردہ ایم سی سی کا موازنہ مارکیٹ میں دستیاب عام ایم سی سی سے بھی کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جیسے جیسے ایم سی سی کی مقدار بڑھائی گئی، فلم کی مضبوطی میں اضافہ اور آکسیجن کے گزرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی۔
شیلف لائف میں اضافہ کیسے ہوگا؟
نئی نسل کی ایکو فرینڈلی پیکیجنگ میں ایسی خصوصی تہیں استعمال کی جا رہی ہیں جو ہوا، نمی اور بیکٹیریا کو خوراک تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ اس سے پھل، سبزیاں، دودھ سے بنی مصنوعات اور پیک شدہ غذائی اشیا زیادہ دیر تک تازہ رہ سکتی ہیں اور خوراک کے ضیاع میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
ماحول کو کیا فائدہ ہوگا؟
روایتی پلاسٹک کو ختم ہونے میں سیکڑوں سال لگتے ہیں، جبکہ ماحول دوست پلاسٹک نسبتاً کم وقت میں قدرتی طور پر تحلیل ہو سکتا ہے یا اسے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے لینڈ فل سائٹس پر دباؤ کم ہوگا، ندیوں اور سمندروں میں پلاسٹک کے کچرے کی مقدار گھٹے گی اور کاربن اخراج میں بھی کمی آئے گی۔
صنعت کے لیے کیا اہمیت ہے؟
فوڈ انڈسٹری تیزی سے ایسی پیکیجنگ کی طرف بڑھ رہی ہے جو صارفین کی صحت، خوراک کے معیار اور ماحولیاتی تحفظ تینوں تقاضوں کو پورا کر سکے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا تو مستقبل میں پلاسٹک آلودگی کم کرنے اور خوراک کو محفوظ رکھنے میں بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت، صنعت اور صارفین اگر مشترکہ طور پر ماحول دوست پیکیجنگ کو فروغ دیں تو یہ اقدام پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔







