
امریکہ اوربھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف پنجاب کے کسانوں کی جانب سے منگل کوطے شدہ دہلی مارچ فی الحال ملتوی کردیا گیا۔ دوپہرتین بجے کے بعد کسان شمبھوبارڈرسے واپس پنجاب کی طرف لوٹنے لگے۔ یہ فیصلہ ہریانہ کے وزیرِزراعت شیام سنگھ رانا اورکسان لیڈرسرون سنگھ پندھیرسمیت دیگرنمائندوں کے درمیان ہوئی بات چیت کے بعد سامنے آیا۔ ملاقات کے بعد کسان تنظیموں نے احتجاج کوعارضی طورپرروکنے پراتفاق کیا۔ اس کے بعد دہلی-جالندھرقومی شاہراہ پرکھڑی کسانوں کی بسیں اوردیگرگاڑیاں ہٹائی جانے لگیں، جس کے بعد شاہراہ کو جلد ٹریفک کے لئے کھولنے کی تیاری شروع کردی گئی۔
کسان لیڈرسرون سنگھ پندھیرنے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہریانہ کے وزیرِزراعت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تجارتی معاہدے کے معاملے پرمرکزی وزیرِزراعت شیوراج سنگھ چوہان سے کسانوں کی بات چیت کرائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کسانوں نے ہریانہ کے کسان رہنما گرنام سنگھ چڑھونی سمیت گرفتاردیگرلیڈران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا، جس پرحکومت نے مثبت یقین دہانی دی ہے۔
کسان لیڈردل باغ سنگھ دیراجکے نے کہا کہ دونوں اہم مطالبات پراصولی اتفاق ہونے کے بعد احتجاج کوفی الحال ملتوی کردیا گیا ہے، تاہم آئندہ کی حکمتِ عملی کسان تنظیموں کی اندرونی مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔ منگل کی صبح پنجاب کے مختلف اضلاع سے کسان پٹیالہ-امبالہ کے درمیان واقع شمبھو سرحد اورسنگرور-جند کے درمیان واقع خانوری سرحد پردہلی کے کسان گھاٹ جانے کے لئے جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اطلاع ملتے ہی ہریانہ پولیس نے دونوں سرحدوں پربیریکیڈ لگا کرانہیں سیل کردیا، جس کے باعث کسانوں کوآگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔
حکومت کی جانب سے دونوں مقامات پربھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی، جبکہ کسی بھی قسم کی عارضی یا مستقل تعمیرکوروکنے کے لئے جے سی بی مشینیں بھی موجود تھیں۔ پولیس کی کارروائی کے بعد بڑی تعداد میں کسان وہیں دھرنے کی شکل میں بیٹھ گئے اورمستقل احتجاج کی تیاری شروع کردی گئی۔ صورتحال کشیدہ ہونے پرامبالہ پولیس نے علاقے میں دفعہ 163 نافذ کردی اورکسانوں کوبیریکیڈ سے 100 میٹردوررہنے کی ہدایت دی۔ اس دوران شمبھو سرحد بند ہونے کے باعث جالندھر-دہلی قومی شاہراہ (این ایچ-44) پر ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی، جس کے بعد پولیس نے گاڑیوں کے لیے متبادل راستے مقررکردیئے۔
قابلِ ذکرہے کہ کسان تحریک کے دوران ہریانہ-پنجاب شمبھوسرحد تقریباً 13 ماہ تک بند رہی تھی۔ اسے 13 فروری 2024 کوسیل کیا گیا تھا اورہائی کورٹ کے حکم پر20 مارچ 2025 کودوبارہ کھولا گیا تھا۔ تاہم موجودہ احتجاج کے سبب ایک بارپھرسرحدی راستہ بند کردیا گیا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







