
مبئی: مہاراشٹر حکومت کے وزیر نتیش رانے کی جانب سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کا موازنہ آئی ایس آئی اور جیش جیسے انتہا پسند تنظیموں سے کیے جانے پر اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان اور رکن اسمبلی وارث پٹھان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتیش رانے اکثر میڈیا کی توجہ حاصل کرنے اور سرخیوں میں رہنے کے لیے اس قسم کے بیانات دیتے ہیں، جبکہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کو اپنے وزیر کے طرزِ عمل پر توجہ دینی چاہیے۔
عدالتی کارروائی سے پہلے فیصلہ سنانا درست نہیں
وارث پٹھان نے کہا کہ جس معاملے کو لے کر سیاسی بحث جاری ہے، اس میں فردِ جرم پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے اور مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی سیاسی لیڈر کو عدالت کے فیصلے سے قبل کوئی رائے قائم کرنے یا فیصلہ سنانے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتیش رانے مسلسل اے آئی ایم آئی ایم اور اس کی قیادت کے خلاف الزامات عائد کرتے رہتے ہیں، حالانکہ معاملے کی قانونی جانچ اور عدالتی عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات نتیش رانے کے بیانات سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔
جمہوری طریقے سے سیاست کرتی ہے AIMIM
اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان نے کہا کہ ان کی جماعت ملک بھر میں جمہوری اور آئینی طریقے سے انتخابات میں حصہ لیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے سربراہ اسدالدین اویسی پانچ مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ پارٹی کے متعدد ارکان اسمبلی، کونسلر اور عوامی نمائندے مختلف ریاستوں میں عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وارث پٹھان نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم دلتوں، محروم طبقات، غریبوں اور سماج کے کمزور طبقوں کی آواز بلند کرنے کا کام کرتی ہے اور ہمیشہ عوامی مسائل کو جمہوری انداز میں اٹھاتی رہی ہے۔







