
سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں بھارتی فوج کے دو جوان ہلاک ہو گئے۔ حکام نے منگل کے روز اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ واقعہ اُڑی سیکٹر کے کمل کوٹ علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک زور دار دھماکے کے نتیجے میں دو فوجی شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ابتدائی طور پر دونوں اہلکاروں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم ان کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔
ہلاک فوجیوں کی شناخت
حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت ارجن جادھو اور وکرم بال کرشن کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق ریاست مہاراشٹر سے تھا اور وہ بھارتی فوج کی خدمات انجام دے رہے تھے۔ شدید زخمی ہونے کے بعد دونوں فوجیوں کو سری نگر کے بادامی باغ فوجی چھاؤنی میں واقع آرمی بیس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
آٹھ نیشنل رائفلز سے وابستگی
معلوم ہوا ہے کہ دونوں فوجی آٹھ نیشنل رائفلز یونٹ سے وابستہ تھے، جو وادی کشمیر میں انسدادِ دہشت گردی اور سرحدی نگرانی کی مختلف ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔ فی الحال دھماکے کی اصل نوعیت اور اسباب کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، جبکہ سکیورٹی اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایل او سی پر سکیورٹی انتظامات
جموں و کشمیر میں تقریباً سات سو چالیس کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ اضلاع سے گزرتی ہے۔ دوسری جانب جموں ڈویژن میں ایل او سی پونچھ، راجوری اور جزوی طور پر جموں ضلع کے علاقوں پر محیط ہے۔ اس کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام اس خطے کی تقریباً دو سو چالیس کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد سانبہ، جموں اور کٹھوعہ اضلاع سے ہو کر گزرتی ہے۔
سرحدی نگرانی کے لیے سخت اقدامات
ایل او سی کی حفاظت بھارتی فوج کے سپرد ہے، جبکہ بین الاقوامی سرحد کی نگرانی بارڈر سکیورٹی فورس انجام دیتی ہے۔ دونوں فورسز سرحد پار دراندازی، اسمگلنگ اور ڈرون سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مسلسل تعینات رہتی ہیں۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق حالیہ برسوں میں ڈرونز کے ذریعے اسلحہ، گولہ بارود، نقد رقم اور منشیات بھارتی حدود میں پہنچانے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جدید اینٹی ڈرون نظام نصب کیے گئے ہیں۔
تحقیقات جاری
حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد ہی مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور فوجی دستوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔







