
نئی دہلی: روس کے پہلے نائب وزیر اعظم ڈینس منتوروف نے دو روزہ سرکاری دورے پر بھارت کا سفر کیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تکنیکی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران منتوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سمیت بھارتی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ روسی نائب وزیر اعظم نے 3 اپریل کو بھارت پہنچ کر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا آغاز کیا۔ وہ بھارت روس بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کے شریک چیئرمین بھی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی اشتراک کو فروغ دینے کا اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں تین اپریل کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ان کی تفصیلی دو طرفہ ملاقات ہوئی، جس میں کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس ملاقات کے دوران تجارت، صنعت، توانائی، کھاد کی فراہمی، رابطہ کاری، نقل و حرکت، ٹیکنالوجی، اختراعات اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں فریقین نے دسمبر 2025 میں ہونے والے 23ویں بھارت روس سالانہ سربراہی اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا اور ان میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ گفتگو کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا، خاص طور پر مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں باہمی تعاون کو مزید عملی اور کثیر جہتی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ مفادات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
دورے کے دوران منتوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی، جس میں دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، صنعتی شراکت داری بڑھانے اور نئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بات چیت ہوئی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ساتھ ملاقات میں مالیاتی تعاون، بینکاری روابط اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی گئی، جبکہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے اسٹریٹجک اور سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ دورہ بھارت روس تعلقات کو نئی سمت دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک نے روایتی شعبوں جیسے توانائی اور دفاع کے علاوہ ابھرتے ہوئے شعبوں، بشمول ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اختراعات اور اہم معدنیات میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی غیر یقینی صورتحال کے درمیان یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت اور روس اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ اور نئی دہلی میں روسی سفارت خانے نے پہلے ہی اس دورے کا اعلان کیا تھا اور اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس عالمی تجارتی تبدیلیوں کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خصوصی طور پر ڈینس منتوروف کو بھارت روس تجارت بڑھانے کی ذمہ داری سونپی تھی، جس کے بعد یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی رفتار پیدا کرنے کی جانب اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔







