
نئی دہلی :مرکزی وزیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی ایک تحریر شیئر کرتے ہوئے “کھیلو انڈیا” مہم کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اپنی پوسٹ میں کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز 2026 جیسے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے بھارت کو عالمی کھیل میدان میں مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے جمعہ کو ایکس پر صدر کی تحریر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے قبائلی نوجوانوں کی کھیلوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز انہیں ضروری سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی کھلاڑیوں کی مسلسل حوصلہ افزائی سے ایک مضبوط کھلاڑیوں کا گروپ تیار ہو سکتا ہے جو بھارت کو عالمی سطح پر کھیلوں کی طاقت بنا سکتا ہے۔صدر دروپدی مرمو نے اپنی تحریر میں کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز 2026 کو کھیلوں کی دنیا میں مثبت تبدیلی لانے والا اقدام قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ صلاحیت، تربیت اور مواقع قبائلی نوجوانوں کو مضبوط بنائیں گے اور بھارت کے کھیلوں کے مستقبل کو نئی سمت دیں گے۔
صدرجمہوریہ دروپدی مرمونے 1928 میں قبائلی برادری کے کھلاڑیوں کے کردار کا بھی ذکر کیا، جب بھارت نے ہاکی میں اپنا پہلا اولمپک طلائی تمغہ جیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں قبائلی کھلاڑیوں کا نمایاں کردار تھا۔ بعد میں دلیپ ترکّی، سبودھ لاکرا اور سلیما ٹیٹے جیسے کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی سے بھارتی ہاکی ٹیم کو مزید مضبوط بنایا۔صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اپنی ذاتی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں انہیں بھی کھیلوں میں خاص دلچسپی تھی، خاص طور پر تیراکی میں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر اسکول کے مقابلوں میں اول آتی تھیں اور کھیلوں سے ٹیم اسپرٹ اور سماجی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔
انہوں نے کھیلو انڈیا پروگرام کی بھی تعریف کی، جس کا مقصد ملک کے ہر علاقے کے کھلاڑیوں کو بہتر کھیل کا ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت “اسمیتا” اسکیم لڑکیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جس سے قبائلی بیٹیوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا کہ قبائلی نوجوانوں کی کھیلوں میں صلاحیت ملک کی قیمتی سماجی سرمایہ ہے اور اس صلاحیت کو بروئے کار لا کر بھارت عالمی کھیلوں میں نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے۔انہوں نے آخر میں نوجوانوں کو پیغام دیا: “کھیلو انڈیا، خوب کھیلو انڈیا”۔






