
کھنؤ: اتر پردیش حکومت سے امداد حاصل کرنے والے تمام مدارس میں مڈ ڈے میل اسکیم میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی جانچ کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ اتر پردیش مڈ ڈے میل اتھارٹی کی ڈائریکٹر مونیکا رانی نے 23 مارچ کو ریاست کے تمام ضلع مجسٹریٹس کو بھیجے گئے خط میں حکومت سے امداد حاصل کرنے والے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل اسکیم میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی جانچ کے احکامات دیے ہیں۔
کایت کی بنیاد پر جانچ کا حکم
خط میں آل انڈیا پسماندہ منچ کے ریاستی نائب صدر طلحہ انصاری کی جانب سے 30 جنوری کو بھیجے گئے شکایتی خط کو منسلک کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خط میں درج تفصیلات کی جانچ کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ طلحہ انصاری نے ریاست کے مختلف اضلاع میں سرکاری امداد یافتہ مدارس میں مڈ ڈے میل اسکیم میں بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے۔
وزیر دانش آزاد انصاری کا بیان
ریاستی وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود دانش آزاد انصاری نے اس حکم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شکایت موصول ہوئی تھی کہ ریاست میں سرکاری امداد یافتہ مدارس میں طلبہ کو دیے جانے والے دوپہر کے کھانے کا معیار بہتر نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شکایت چند مدارس تک محدود ہے اور تمام مدارس کی جانچ کیوں کی جا رہی ہے، تو وزیر نے کہا کہ یہ کسی بڑے گھوٹالے کی جانچ نہیں بلکہ مڈ ڈے میل کے معیار کی جانچ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹس کو جلد از جلد جانچ مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بلرام پور میں 8 کروڑ کا گھوٹالہ
ادھر شکایت کنندہ طلحہ انصاری نے بتایا کہ بلرام پور میں تین امداد یافتہ مدارس — مدرسہ عائشہ صدیقہ، مدرسہ دارالعلوم فاروقیہ اور مدرسہ فضل رحمانیہ — میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت تقریباً آٹھ کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام سامنے آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں 26 نومبر 2025 کو تھانہ کوتوالی نگر، بلرام پور میں 44 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور 12 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق معاملہ سامنے آنے کے بعد تینوں مدارس کے پرنسپل کو معطل کر دیا گیا تھا۔
بارہ بنکی میں بھی نوٹس جاری
انصاری نے کہا کہ اس کے علاوہ بارہ بنکی میں ضلع اقلیتی بہبود افسر نے 16 جولائی 2025 کو ایک نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کچھ امداد یافتہ مدارس میں دوپہر کے کھانے کی اسکیم پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ انصاری نے کہا کہ انہوں نے جنوری میں بنیادی تعلیم کے وزیر سندیپ سنگھ اور بنیادی تعلیم محکمہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری سے شکایت کی تھی۔ واضح رہے کہ اتر پردیش میں تقریباً 25,000 مدارس ہیں، جن میں سے 558 کو سرکاری گرانٹ ملتی ہے۔







