
نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ (مڈل ایسٹ) میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان بھارت پر ممکنہ اقتصادی اثرات کو روکنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی ایکشن موڈ میں آ گئے ہیں۔ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے اثرات عام شہری تک نہ پہنچیں، اس مقصد کے تحت وزیر اعظم مودی نے بدھ کے روز اپنی رہائش گاہ 7 لوک کلیان مارگ پر سیکورٹی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی ایس) کی ایک اہم اور خصوصی میٹنگ کی صدارت کی۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں مختلف وزارتوں کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا اور سخت ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی نے واضح کیا کہ موجودہ عالمی کشیدگی کے دوران حکومت کی اولین ترجیح ملک کے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور حکام کو ہدایت دی کہ وہ ایسے تمام ضروری اقدامات کریں جن سے ضروری اشیاء کی قلت پیدا نہ ہو اور مہنگائی کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم مودی نے افواہوں کو روکنے اور عوام تک درست معلومات پہنچانے پر بھی زور دیا تاکہ غیر یقینی صورتحال میں گھبراہٹ نہ پھیلے۔
اجلاس میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت کی حکمت عملی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جنگی حالات میں عموماً خام تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ حکومت نے اس کے متبادل انتظامات پہلے ہی کر لیے ہیں۔ کابینہ سکریٹری نے اجلاس میں بتایا کہ ایل پی جی اور ایل این جی کی سپلائی اب کسی ایک ملک پر منحصر نہیں رہے گی بلکہ مختلف ممالک سے درآمد کی جائے گی تاکہ توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے ایل پی جی کی قیمتیں مستحکم رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ شدید گرمی کے پیش نظر بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے گیس پر مبنی بجلی گھروں کو قواعد میں نرمی دی گئی ہے جبکہ تھرمل پاور اسٹیشنز تک اضافی کوئلہ پہنچانے کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں ریاستی حکومتوں کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی بحران کا فائدہ اٹھا کر ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ زرعی اجناس، کھاد (یوریا اور ڈی اے پی)، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔ ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔
وزیر اعظم مودی نے بین الاقوامی سطح پر سپلائی چین کو محفوظ بنانے پر بھی زور دیا۔ توانائی اور غذائی اجناس کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نئے عالمی ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت آنے والے سمندری تجارتی راستوں کی سیکورٹی کے لیے سفارتی اور بحری سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عالمی کشیدگی کے باوجود ملک میں استحکام برقرار رکھنا اور عوام کو مہنگائی اور قلت سے محفوظ رکھنا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے متعلقہ حکام کو صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور ضرورت پڑنے پر فوری فیصلے لینے کی بھی ہدایت دی ہے۔







