
وزیراعظم نریندر مودی کی حالیہ اسرائیل دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات میں مزید مضبوطی دیکھنے کو ملی ہے۔ ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی تجارت اور جغرافیائی سیاست میں نئی سمت متعین کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کے مرکز میں India-Middle East-Europe Economic Corridor (IMEC) ہے جسے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت اور رابطے بڑھانے کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ راہداری Belt and Road Initiative (BRI) کا متبادل بن سکتی ہے، جس کے ذریعے چین نے گزشتہ برسوں میں کئی ممالک میں اپنی معاشی اور اسٹریٹجک گرفت مضبوط کی ہے۔ آئی ایم ای سی کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جا رہا ہے کہ اس میں شفافیت، مشترکہ مفادات اور کثیرالجہتی شراکت داری کو فروغ دیا جائے، جبکہ یکطرفہ کنٹرول سے گریز کیا جائے۔
ٹیکنالوجی اور استحکام کی بنیاد پر شراکت
رپورٹ کے مطابق اسرائیل اس منصوبے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسرائیل کی مضبوط ٹیکنالوجیکل بنیاد، جدید انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک محلِ وقوع اسے اس راہداری کا ایک کلیدی حصہ بناتے ہیں۔ اسی طرح یونان جیسے یورپی ممالک بھی اس منصوبے میں اہم شراکت دار سمجھے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم مودی کی اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں تقریر کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں انہوں نے ایک ایسے علاقائی فریم ورک کی بات کی جو مغربی ممالک کے ساتھ تجارت اور روابط کو مزید مستحکم کرے۔
چین کا بڑھتا اثر و رسوخ: ایک بڑا چیلنج
اگرچہ آئی ایم ای سی کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم چین کی موجودہ پوزیشن اب بھی کافی مضبوط ہے۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت کئی بڑے منصوبے مکمل کیے ہیں، جن میں China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) اور گوادر بندرگاہ جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ چین کے قریبی تعلقات بھی اس کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کے اثرات کو کم کرنا آسان نہیں۔
بھارت کی نئی حکمت عملی
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اب روایتی غیر وابستہ پالیسی سے آگے بڑھ کر ایسے ممالک کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے جو سیاسی استحکام اور اقتصادی اعتبار سے قابلِ اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد نہ صرف اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو بڑھانا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین میں ایک مؤثر کردار ادا کرنا بھی ہے۔ آئی ایم ای سی منصوبہ صرف ایک اقتصادی راہداری نہیں بلکہ ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بھارت اور اس کے شراکت دار ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ یہ خود کو ایک شفاف، مستحکم اور قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر کس حد تک ثابت کر پاتا ہے۔






