
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مغربی بنگال کی سیاست میں بڑا انتخابی اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس پر سخت تنقید کی ہے۔ اسدالدین اویسی نے الزام لگایا کہ ممتا بنرجی نے مسلمانوں کے ووٹ تو حاصل کیے، لیکن ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور ان کی سیاست ہی کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ریاست میں مضبوط ہونے کا موقع ملا۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ اسی دوران اسدالدین اویسی نے ہمایوں کبیر کی پارٹی عام جنتا اُننائن پارٹی (اے جے یو پی) کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد ریاست میں کمزور طبقات کے استحصال کو روکنے اور انہیں سیاسی طور پر مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اویسی نے کہا کہ مغربی بنگال کے عوام گھٹن محسوس کر رہے ہیں اور انہیں ایک متبادل قیادت کی ضرورت ہے۔ اویسی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے ہمایوں کبیر کے ساتھ مل کر انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور زیادہ تر نشستوں پر اتفاق بھی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ابھی چند نشستوں پر بات چیت جاری ہے، لیکن اتحاد مضبوط ہے اور انتخابات میں بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ریاست میں مسلم قیادت کو ابھارنا ہے کیونکہ اقلیتوں کی ترقی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ہمایوں کبیر، جنہیں ایک متنازعہ مسجد منصوبے کے بعد ٹی ایم سی سے معطل کر دیا گیا تھا، نے علیحدہ ہو کر عام جنتا اُننائن پارٹی (اے جے یو پی) قائم کی تھی۔ اب یہ جماعت اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ مل کر انتخابات لڑے گی۔ ہمایوں کبیر نے کہا کہ یہ اتحاد صرف انتخابات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں بھی مل کر حصہ لیا جائے گا۔
مرشد آباد سے مہم کا آغاز
ہمایوں کبیر نے اعلان کیا کہ اویسی اپنی انتخابی مہم کا آغاز مرشد آباد سے کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اویسی کم از کم 20 ریلیوں سے خطاب کریں گے، جن میں ایک بڑی ریلی کولکاتا میں بھی منعقد ہوگی۔ پہلی انتخابی ریلی یکم اپریل کو بہرام پور میں ہوگی، جس کے بعد مختلف اضلاع میں مہم چلائی جائے گی۔ اویسی نے کہا کہ ہم اس اتحاد کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو سیاسی قیادت فراہم کرنے کے لیے کام کریں گے اور انہیں بااختیار بنانے کی جدوجہد کریں گے۔ اویسی نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب ہمایوں کبیر نامزدگی داخل کریں گے تو وہ خود وہاں موجود ہوں گے۔
مسلمانوں کی حالت پر سوال
اویسی نے کہا کہ مغربی بنگال میں صرف سات فیصد مسلمان سرکاری ملازمتوں میں ہیں، جبکہ کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالدہ اور مرشد آباد جیسے اضلاع میں پانی کی شدید قلت ہے، لیکن حکومت نے ان مسائل کو نظر انداز کیا۔ اویسی نے کہا کہ صرف مذہبی جذبات سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ حقیقی ترقی کے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ووٹ لے کر ٹی ایم سی اقتدار میں آئی، لیکن اس کے بعد اقلیتوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اویسی نے کہا کہ ہم خودداری اور سیاسی نمائندگی کی بات کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقلیتوں کو ان کا حق ملے۔
وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بھی نظر
وزیر اعلیٰ کے عہدے کے بارے میں سوال پر اویسی نے کہا کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو ان کا اتحاد وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے بھی دعویٰ پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کون بنے گا، یہ انتخابات کے بعد طے ہوگا، لیکن ہمارا مقصد حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ ہمایوں کبیر نے بھی دعویٰ کیا کہ اگر انتخابات میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملتی تو ان کا اتحاد فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد 182 نشستوں پر امیدوار اتارنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ممتا حکومت پر سخت تنقید
اویسی نے ممتا بنرجی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے مسلمانوں کے مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی کی سیاست نے بی جے پی کو ریاست میں مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اویسی نے کہا کہ عوام اب متبادل کی تلاش میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کا اتحاد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہر ووٹر کو اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ دینے کا حق ہے۔ اویسی نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی کی موجودگی سے کسی دوسری جماعت کو فائدہ یا نقصان پہنچنے کا سوال بے معنی ہے، کیونکہ عوام خود فیصلہ کرتے ہیں۔ 294 رکنی مغربی بنگال اسمبلی کے لیے ووٹنگ دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ اس انتخابی معرکے میں نئے اتحاد کی انٹری نے سیاسی مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے اور ریاست کی سیاست میں نئی صف بندیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔







