
گجرات اسمبلی نے متنازعہ گجرات یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) بل 2026 کو منظور کر لیا ہے، جو شادی، طلاق، وراثت اور لیو ان ریلیشن شپ کے لیے سب شہریوں پر یکساں قانون نافذ کرے گا۔ اس قانون کے تحت دھوکہ دہی، زبردستی یا دباؤ سے کی گئی شادیوں پر سات سال تک قید کی سزا کا انتظام کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، شادی اور لیو ان ریلیشن شپ کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
بل کی اہم تفصیلات
* شادی کا رجسٹریشن 60 دن کے اندر کرانا لازمی ہوگا، ورنہ 10,000 روپے جرمانہ یا 3 ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔
* جبراً یا دھوکہ دہی سے شادی کرنے پر سات سال تک قید۔
* غیر قانونی کثیر شادی (Polygamy) پر بھی سات سال تک قید کا انتظام۔
* لیو ان ریلیشن شپ کے لیے رجسٹریشن کا مقصد خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ آزادی محدود کرنا۔
* یہ قانون صرف گجرات میں رہنے والے شہریوں پر ہی نہیں، بلکہ بیرون ریاست سے باہر مقیم گجراتیوں پر بھی نافذ ہوگا۔
* تاہم، یہ قانون شیڈول قبائل (STs) اور کچھ دیگر مخصوص گروہوں پر نافذ نہیں ہوگا جن کے روایتی حقوق آئین کے تحت محفوظ ہیں۔
اسمبلی میں بل کی منظوری
گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے 24 مارچ 2026 کو بل اسمبلی میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگا اور ریاست کے شہریوں کی مساوی انصاف کی توقعات اور حقوق کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بل کے اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا “شادی کی رجسٹریشن، طلاق کے لیے یکساں قوانین، لِو-ان کا رجسٹریشن اور بیٹیوں و بیٹوں کے مساوی وراثتی حقوق اس بل کے بنیادی ستون ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سخت سزائیں متعین کی گئی ہیں”۔
قانونی سزا اور نفاذ
وزیراعلیٰ نے مزید کہا:
* اگر 60 دن کے اندر شادی کا رجسٹریشن نہ ہو تو 10,000 روپے کا جرمانہ۔
* رجسٹریشن نہ کرانے کی صورت میں تین ماہ تک قید یا جرمانہ۔
* جبراً یا دھوکہ دہی سے کی گئی شادی پر سات سال تک قید۔
* کثیر شادی پر بھی سات سال تک قید۔
یہ اقدامات معاشرتی انصاف اور شہری حقوق کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے ہیں اور خواتین و بچوں کے لیے قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
تاریخی اہمیت
گجرات یو سی سی بل منظور کرنے والا دوسرا ریاست بن گیا ہے، پہلے اترکھنڈ نے فروری 2024 میں یہ بل منظور کیا تھا۔ گجرات میں بل کے نفاذ کے بعد، ریاستی حکومت نے کہا کہ یہ بل نہ صرف گجرات بلکہ بیرون ریاست رہنے والے گجراتی شہریوں کے لیے بھی مساوی قانونی تحفظ فراہم کرے گا۔
مخالفت اور سیاسی ردعمل
کانگریس سمیت بعض حزب اختلافی جماعتیں بل کی مخالفت کر رہی ہیں اور اسے مسلمان مخالف اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔ مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بل کے بعض نکات شریعت اور دینی احکام میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کہا کہ بل کا مقصد شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرنا اور قانونی خلا کو ختم کرنا ہے اور اس کے نفاذ سے ریاست میں سماجی انصاف اور شہری مساوات مضبوط ہوگی۔







