
مشرق وسطیٰ میں کشیدہ حالات کے درمیان پاکستان کو سفارتی سطح پر ایک بڑی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے پاکستان کے کارگو جہاز ’’سیلن‘‘ کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا، جس کے بعد جہاز کو واپس متحدہ عرب امارات کی جانب موڑنا پڑا۔ اس واقعے نے خطے میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی کنٹینر جہاز متحدہ عرب امارات سے کراچی کی جانب رواں دواں تھا، جب ایرانی فورسز نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز میں تقریباً 6850 ٹن سامان لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد جہاز کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان خود کو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے ایران سے متعدد رابطے کیے تھے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر گفتگو بھی کی تھی، جس میں تجارتی راستوں کی سکیورٹی اور مجوزہ امن مذاکرات پر بات چیت ہوئی۔ تاہم اس کے باوجود ایرانی حکام کی جانب سے پاکستانی جہاز کو راستہ نہ دینے کو سفارتی حلقوں میں پاکستان کے لیے بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان کی خارجہ پالیسی پر مکمل اعتماد نہیں کر رہا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کو خدشہ ہے کہ پاکستان امریکہ کے قریب رہتے ہوئے دوہری پالیسی اختیار کر رہا ہے، جس کی وجہ سے تہران نے سخت موقف اپنایا۔
دوسری جانب اس صورتحال میں بھارت کی پوزیشن خاصی مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی پرچم بردار کئی بڑے آئل ٹینکر اور مال بردار جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے آبنائے ہرمز سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچ رہے ہیں۔ اس حوالے سے حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ بھارت اپنی مضبوط سفارت کاری کے ذریعے بحران کے باوجود اپنے جہازوں کو محفوظ نکالنے میں کامیاب رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی اور اقتصادی تعلقات بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بھارت کی اسٹریٹجک خود مختاری اور متوازن خارجہ پالیسی نے اسے خطے میں قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی معاشی مشکلات اور بیرونی قرضوں پر انحصار نے اس کی سفارتی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ واقعہ خطے میں طاقت کے بدلتے توازن کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کے لیے سفارتی چیلنج بن گئی ہے بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سمندری تجارت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔







