
نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے گنگا ندی میں افطار پارٹی کے معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کون سا قانون ہے جو گنگا میں کھانا کھانے سے روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو بلاوجہ سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے اور نوجوانوں پر جھوٹے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ملک کے مختلف اہم مسائل پر اپنی رائے پیش کی۔ اس دوران انہوں نے وارانسی میں گنگا کے کنارے افطار کے ایک حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ نوجوانوں نے وہاں افطار کا اہتمام کیا تو اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے۔
قانونی پہلو پر سوال
اویسی نے کہا کہ بھارت میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو گنگا میں کھانا کھانے پر پابندی عائد کرتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ افطار کرنے والے نوجوانوں پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے وہاں گوشت کھایا اور ہڈیاں دریا میں پھینکیں، جبکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”ایک بھی ویڈیو ایسی نہیں ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہو کہ انہوں نے دریا میں کچھ غلط کیا ہو۔ اس کے باوجود انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے“۔
گنگا کی صفائی پر تنقید
اویسی نے گنگا ندی کی صفائی کے مسئلے کو بھی اٹھایا اور کہا کہ اگر گنگا کو ”ماں“ کہا جاتا ہے تو پھر اس کی صفائی پر سنجیدگی سے توجہ کیوں نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ نالوں کا گندا پانی دریا میں ڈالا جاتا ہے، لیکن اس پر کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔ انہوں نے کہا، ”ایک طرف گنگا میں گندگی ڈالی جا رہی ہے اور دوسری طرف لوگوں کو وہاں کھانا کھانے سے روکا جا رہا ہے، جو سراسر غلط ہے“۔ ان کے مطابق اس پورے معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ تنازعہ بڑھ گیا ہے۔
سماجی ہم آہنگی پر تشویش
اویسی نے دہلی کے اتم نگر کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا، جہاں مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ کھلے عام نفرت انگیز باتیں کرتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ مسلمانوں کو عید منانے کے لیے بھی عدالتوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال جمہوری اقدار کے خلاف ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
پولیس اور انتظامیہ پر سوالات
اویسی نے پولیس اور انتظامیہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی مواقع پر ایسے معاملات میں یکساں کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہیے اور کسی بھی طبقے کے ساتھ امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ نفرت انگیز بیانات اور جھوٹے الزامات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچے۔