
نئی دہلی: ناگالینڈ کے گورنر نند کشور یادو نے منگل کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے نئی دہلی میں ملاقات کی، جسے سیاسی طور پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، تاہم اس دوران ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ نند کشور یادو نے حال ہی میں 13 مارچ کو ناگا لینڈ کے 23ویں گورنر کے طور پر حلف لیا تھا۔ حلف برداری کی تقریب گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آشوتوش کمار نے انجام دی تھی۔ یادو ایک سینئر بی جے پی لیڈر ہیں اور اس سے قبل بہار اسمبلی کے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ پٹنہ صاحب حلقے کی نمائندگی کرتے رہے ہیں اور ریاستی حکومت میں سڑک تعمیرات اور صحت جیسے اہم محکموں کی ذمہ داریاں بھی سنبھال چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بہار میں اپوزیشن لیڈر بھی رہ چکے ہیں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے بھی ان کا دیرینہ تعلق رہا ہے۔
ناگا لینڈ میں ضمنی انتخاب کا اعلان
دوسری جانب ناگا لینڈ میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں کوریدانگ (ایس ٹی) اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ یہ نشست بی جے پی کے سینئر رہنما ایم کونگ ایل امچین کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ کانگریس پارٹی نے اس سیٹ کے لیے ٹی چالوکُمبا آؤ کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے، جس کی منظوری پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے دی۔ ٹی چالوکُمبا آؤ اس سے قبل 2023 کے اسمبلی انتخابات میں جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں اور اب وہ بی جے پی کے امیدوار کے مدمقابل ہوں گے۔
بی جے پی کی حکمت عملی اور امیدوار
بی جے پی نے بھی ضمنی انتخاب کے لیے اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ سابق رکن امچین کے بیٹے داؤچیئر آئی امچین کو امیدوار بنایا جائے گا، جبکہ ایک اور امیدوار امچینبا جمیر نے اپنی امیدواری واپس لے لی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سیٹ پر مقابلہ دلچسپ ہونے کی توقع ہے، کیونکہ مقامی سطح پر دونوں جماعتیں مضبوط پوزیشن رکھتی ہیں۔
ووٹنگ شیڈول اور انتخابی منظرنامہ
ناگا لینڈ میں ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ 9 اپریل کو ہوگی، جو دیگر ریاستوں جیسے گوا، کرناٹک اور تریپورہ کے ساتھ ایک ہی دن منعقد کی جائے گی۔ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ ماہرین کے مطابق یہ ضمنی انتخاب نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتائج آئندہ سیاسی حکمت عملیوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔






