
رمضان المبارک اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب دنیا بھر کے مسلمانوں کو ماہ رمضان کے وداع ہونے کا غم ہے وہیں رمضان کے روزے رکھنے کی خوشی میں عظیم تہوار ‘عید الفطر’ کا بھی انتظار ہے۔ جیسے جیسے روزے ختم ہونے کو ہیں، لوگوں کی عید کی تیاریوں سے متعلق مصروفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی عید کے چاند کے سلسلے میں گوگل پر بھی سب سے زیادہ یہی تلاش کیا جا رہا ہے کہ آخر اس بار عید کب منائی جائے گی؟ تو آئیے آپ کی اس الجھن کو دور کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آخر عید کب ہوگی۔
چاند کا دیدار اور تاریخوں کا حساب
عید کی درست تاریخ مکمل طور پر نئے چاند کے نظر آنے پر منحصر ہوتی ہے۔ چونکہ اسلامی کیلنڈر چاند کی گردش (Lunar Cycle) پر مبنی ہے، اس لیے اس کی تاریخیں ہر سال بدلتی رہتی ہیں۔ جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے مختلف ممالک میں چاند نظر آنے کے وقت میں فرق ہوتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای جیسے خلیجی ممالک میں چاند بھارت سے ایک دن پہلے نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں عید اکثر خلیجی ممالک کے اگلے دن منائی جاتی ہے۔
اس بار کیا کہتے ہیں فلکیاتی اندازے؟
موجودہ فلکیاتی حساب کے مطابق اس بار سعودی عرب میں 19 مارچ (جمعرات) کی شام چاند نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔ اگر وہاں جمعرات کو چاند نظر آ جاتا ہے تو خلیجی ممالک میں 20 مارچ (جمعہ) کو عید منائی جائے گی۔
دوسری جانب بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے جنوبی ایشیائی ممالک میں 20 مارچ (جمعہ) کی شام چاند نظر آنے کی توقع ہے۔ ایسی صورت میں بھارت میں عید الفطر 21 مارچ 2026 (ہفتہ) کو منائی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ سب محض اندازے ہیں، حتمی فیصلہ مقامی رویتِ ہلال کمیٹیوں اور علمائے کرام کی گواہی کے بعد ہی کیا جائے گا۔
بھائی چارے اور مٹھاس کا پیغام
عید صرف روزہ ختم ہونے کا دن نہیں بلکہ شکرگزاری، غرباء و مساکین کی حال پرسی اور باہمی بھائی چارے کا خوبصورت مظہر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر ‘صدقۂ فطر’ کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرد اس خوشی میں شریک ہو سکے۔ نئے کپڑوں کی رونق اور گھروں میں بننے والی میٹھی سوئیوں کی خوشبو کے درمیان لوگ پرانے گلے شکوے بھلا کر ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں، جس سے رشتوں میں نئی مٹھاس اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام ملتا ہے۔







