
دارالحکومت دہلی کا پالَم علاقہ اتوار کی صبح اُس وقت دہل اٹھا، جب گلی نمبر 2 میں واقع ایک چار منزلہ عمارت میں شدید آگ لگ گئی۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے تقریباً 10 افراد کے جل کر جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جن میں تین سے چار معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ عمارت علاقے کے مارکیٹ پردھان راجندر کشیپ کی تھی، جس میں اُن کا 15 افراد پر مشتمل مشترکہ خاندان رہتا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق، صبح تقریباً 6:30 بجے لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جان بچانے کی جدوجہد میں کچھ لوگ اوپری منزلوں سے نیچے کود گئے، لیکن خاندان کی خواتین اور بچے اندر ہی پھنسے رہ گئے۔
گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی آگ
حادثے کا شکار اس عمارت کے بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور پر چوڑی کی دکان اور بیوٹی پارلر جیسے کاروبار چل رہے تھے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آگ یہیں سے شروع ہوئی اور اوپری منزلوں تک پھیل گئی، جہاں خاندان سو رہا تھا۔ جب تک فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچتیں، آگ اتنی شدید ہو چکی تھی کہ ریسکیو آپریشن میں سخت مشکلات پیش آئیں۔ فائر بریگیڈ کی 30 گاڑیوں اور ہائیڈرولک مشینوں کی مدد سے پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالا گیا، لیکن تب تک کئی افراد بری طرح جھلس چکے تھے اور بے ہوشی کی حالت میں تھے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ اگر بروقت مدد پہنچ جاتی تو شاید کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
‘آپ’ لیڈر سوربھ بھاردواج کا ردعمل
اس ہولناک سانحے نے دہلی کی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ دہلی پردیش عام آدمی پارٹی کے صدر سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پر سخت پوسٹ کرتے ہوئے فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب بچے بالکنی میں کھڑے ہو کر مدد کے لیے چیخ رہے تھے، تب فائر بریگیڈ “ناکام اور نااہل” ثابت ہوئی۔ بھاردواج نے دوارکا اور روہنی کے پچھلے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائر اسٹیشن قریب ہونے کے باوجود گاڑیاں تاخیر سے پہنچتی ہیں، جس کے باعث معصوم بچوں کو اپنی جان گنوانی پڑ رہی ہے۔
انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال
راجندر کشیپ کا پورا خاندان اس حادثے میں تباہ ہو گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تنگ گلیوں کی وجہ سے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو اندر جانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس اور فارنزک ٹیمیں اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آگ لگنے کی اصل وجہ شارٹ سرکٹ تھی یا کوئی اور سبب۔تاہم 10 اموات کے خدشے نے پورے پالَم علاقے میں سوگ کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اسپتال میں زیر علاج زخمیوں کی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کے خلاف عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور وہ اس لاپروائی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔







