
ئی دہلی: سینئر صحافی، قلمکار، شاعر اور روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سابق ایڈیٹر اور معروف کالم نگار اسدرضا دنیا سے رخصت ہوگئے. اطلاعات کے مطابق، دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث انتقال کرگئے۔ تدفین ان کے آبائی وطن بجنور میں ہوگی۔ ان کے انتقال کی خبر سے صحافتی حلقوں میں گہرے رنج وغم کی لہر دوڑ گئی۔ اسد رضا طویل عرصے سے اردو صحافت سے وابستہ رہے اوراپنے مدلل، بے باک اورسنجیدہ کالموں کے ذریعے سماجی، سیاسی اور قومی مسائل پرمؤثر انداز میں آواز بلند کرتے رہے، انکی تحریریں سنجیدگی، حق گوئی اورصحافتی دیانت کی روشن مثال سمجھی جاتی تھیں۔
اردو صحافت، ادب اور شاعری کا ایک ناقابل تلافی نقصان
اسد رضا کے انتقال پرصحافی برادری، ادبی شخصیات اور سماجی حلقوں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے اردو صحافت کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ بھارت ایکسپریس اردو کے ایڈیٹر ڈاکٹر خالد رضا خان نے اسد رضا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج اردو صحافت، ادب اور شاعری کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ اس کی بھرپائی نہیں کی جاسکتی ہے۔ وہ بہت مخلص، ملنسار اور خوش مزاج انسان تھے۔ ان سے ہمارے ذاتی تعلقات بہت اچھے تھے۔ سہارا میڈیا میں ہم سب نے ایک ساتھ کافی لمبا وقت گزارا ہے، آج یقین نہیں ہو رہا ہے کہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔اللہ سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
بھارت ایکسپریس اردو۔







