
وئٹہ: بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ہفتہ کے روز پورے بلوچستان میں ’آپریشن ہیروف 2.0‘ انجام دینے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد صوبے کے مختلف اضلاع میں پاکستانی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے مسلح جھڑپوں، دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان کارروائیوں سے کئی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
بی ایل اے کے ترجمان جیاند بلوچ نے اس کارروائی کو فیصلہ کن مزاحمت کا اعلان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیا مرحلہ قابض ریاست اور اس کے تمام فوجی و انتظامی ڈھانچوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام، بلوچ مجاہدین کے ساتھ کھڑے ہو کر ہر شہر، گلی اور محلے میں دشمن کو شکست دیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس آپریشن کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ بلوچستان میں قابض قوت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
’دی بلوچستان پوسٹ‘ نے مقامی باشندوں اور ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کوئٹہ، نوشکی، قلات، مستونگ، دالبندین، خاران، گوادر، پسنی، ٹمپ، بُلیدہ اور دھدار سمیت صوبے کے کئی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال نہایت نازک بنی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی پولیس اور فوجی تنصیبات پر شدید فائرنگ، دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات ہیں۔
انتہائی حساس ریڈ زون میں فائرنگ اور دھماکہ
اس دوران، کوئٹہ کے متعدد علاقوں بشمول انتہائی حساس ریڈ زون میں بھی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے کوئٹہ میں سریاب روڈ پر پاکستانی پولیس کی موبائل وین کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔ ریلوے اسٹیشن کی سمت سے بھی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
صوبے کے دس شہروں میں بیک وقت ہوئے حملے
میڈیا اداروں کو جاری کیے گئے ایک تازہ بیان میں بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے دوران صوبے کے دس شہروں میں بیک وقت حملے کیے گئے۔ جیاند بلوچ کے مطابق گروپ نے ’فوجی اور انتظامی ڈھانچوں‘ کو نشانہ بنایا، دشمن کی نقل و حرکت کو متاثر کیا اور کئی علاقوں میں پاکستانی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔
پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے کیمپوں پر حملہ
بیان میں مزید کہا گیا کہ فدائی حملوں کے ذریعے کوئٹہ، پسنی، گوادر، نوشکی اور دالبندین میں پاکستانی فوج اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی مجید بریگیڈ کامیابی کے ساتھ فوجی کیمپوں میں داخل ہوئی اور ان کے بڑے حصوں پر قبضہ کیا۔
پاکستانی فوجی ٹھکانوں کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ
بی ایل اے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اب تک درجنوں پاکستانی فوجی ٹھکانے ناکارہ بنائے جا چکے ہیں اور جلد ہی مزید تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ بی ایل اے کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ایک علیحدہ پیغام میں گروپ کے کمانڈر اِن چیف بشیر زیب بلوچ نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں اور پاکستانی فوج کے خلاف جدوجہد میں شامل ہوں۔
آپریشن ہیروف کا حصہ بننے کی بلوچ قوم سے اپیل
’دی بلوچستان پوسٹ‘ کے مطابق بشیر زیب بلوچ نے کہا، ’’یہ جدوجہد کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی ہے۔ جب کوئی قوم متحد ہو کر کھڑی ہوتی ہے تو دشمن اپنی تمام تر طاقت کے باوجود شکست سے نہیں بچ سکتا۔ بلوچ قوم سے اپیل ہے کہ وہ باہر نکلیں اور آپریشن ہیروف کا حصہ بنیں۔‘‘
پاکستان سے آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں بلوچ عوام
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے عوام اس وقت پاکستان سے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی صوبے کے مختلف انسانی حقوق کے اداروں نے وقتاً فوقتاً پاکستانی فوج کی جانب سے مبینہ جبر کو اجاگر کیا ہے، جن میں بلوچ رہنماؤں اور شہریوں کے گھروں پر چھاپے، غیر قانونی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، ’مارو اور پھینکو‘ کی پالیسی، امنِ عامہ کے آرڈیننس کے تحت حراست اور من گھڑت مقدمات درج کرنا شامل ہیں۔







