
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز بھارت منڈپم میں دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کے لیے آئے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بھارت اور عرب دنیا کے درمیان عوامی سطح پر موجود گہرے اور تاریخی روابط کو اجاگر کیا۔
وزیراعظم مودی نے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ، لیگ آف عرب اسٹیٹس (ایل اے ایس) کے سکریٹری جنرل اور عرب ممالک کے سربراہان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ عرب لیگ کے سربراہ دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کے لیے بھارت پہنچے ہیں۔
دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (IAFMM) کے دوران وزیراعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، صحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے بھارت کی مسلسل حمایت کو دہرایا اور غزہ امن منصوبے سمیت جاری امن کوششوں کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے بھارت اور عرب ممالک کے درمیان عوامی سطح پر موجود مضبوط اور تاریخی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے آئندہ برسوں میں بھارت–عرب شراکت داری کے لیے اپنے وژن کا اظہار کیا اور باہمی مفاد کے تمام اہم شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے بھارت کے عزم کی پھر سے توثیق کی۔
پی ایم مودی نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے لیے بھارت کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا اور غزہ پیس پلان سمیت جاری امن اقدامات کی حمایت کی۔ اس دوران انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں عرب لیگ کے اہم کردار کی بھی ستائش کی۔
اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کی مشترکہ صدارت بھارت اور متحدہ عرب امارات کریں گے، جس میں عرب لیگ کے تمام 22 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور سینئر نمائندے، عرب لیگ کے سربراہ کے ساتھ شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اجلاس تقریباً ایک دہائی بعد منعقد ہو رہا ہے۔ اس سے قبل بھارت–عرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ 2016 میں بحرین میں ہوئی تھی۔ وزارتِ خارجہ نے اپنی سرکاری ریلیز میں کہا، ’’دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ سے موجودہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے اور اس شراکت داری کو وسعت اور گہرائی دینے کی توقع ہے۔‘‘
وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ بھارت اور لیگ آف عرب اسٹیٹس کے درمیان تعاون کے لیے سب سے بڑا ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے۔ مارچ 2002 میں بھارت اور عرب لیگ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بعد باضابطہ مکالمے کا فریم ورک قائم ہوا تھا۔







