
سری نگر: اتراکھنڈ کے دہرادون میں دو کشمیری شال فروشوں پر ہونے والے حملے کے بعد جموں و کشمیر میں اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی اور جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف پی ڈی پی کارکنوں نے ہفتہ کے روز احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔
پی ڈی پی کارکنوں نے سری نگر میں پارٹی دفتر کے سامنے وادی کے باہر احتجاج کیا۔ پی ڈی پی لیڈر سارہ نعیمہ نے کہا کہ ہمارے کشمیری بیٹے کو اتراکھنڈ میں بے رحمی سے پیٹا گیا اور اس پر حملہ کیا گیا۔ اس کی واحد غلطی یہ تھی کہ وہ کشمیری ہے اور مسلمان ہے۔
پارٹی سربراہ محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’جب اتراکھنڈ میں ایک نوجوان کشمیری شال فروش کو تقریباً پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا ہے تو اسے بچانے کے لیے کوئی آگے نہیں آتا، لیکن جب پی ڈی پی ایسے مظالم کے خلاف پرامن احتجاج کرنے کی کوشش کرتی ہے تو پورے پولیس نظام کو مارچ کچلنے کے لیے لگا دیا جاتا ہے۔‘‘
کشمیریوں کو اپنے ہی خطے میں قید کر دیا گیا
انہوں نے کہا، ’’کشمیریوں کو اپنے ہی مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں قید کر دیا گیا ہے اور جب وہ ایمانداری سے روزی کمانے کے لیے باہر نکلتے ہیں تو انہیں پیٹا جاتا ہے۔ جب زندگی جینے کو بھی جرم مانا جاتا ہے تو کشمیری کہاں جائیں؟ کیا انہیں نئے بھارت میں رہنے کی بھی اجازت ہے؟‘‘
اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن وزیر داخلہ کو لکھا خط
ادھر جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس معاملے میں مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکزی وزیرِ داخلہ کو لکھے گئے خط میں ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خوہامی نے کہا کہ یہ واقعہ دہرادون کے وکاس نگر علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک کم عمر لڑکا اپنے خاندان کے ساتھ شدید سردی کے مہینوں میں روزی کمانے کے لیے شالیں فروخت کر رہا تھا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق پہلے نوجوان سے اس کی شناخت اور آبائی مقام کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ جب یہ بات سامنے آئی کہ خاندان مسلمان ہے اور کشمیر سے تعلق رکھتا ہے تو مبینہ طور پر صورتحال شدید تشدد میں بدل گئی۔ نوجوان کو لوہے کی راڈ سے بے دردی سے پیٹا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے بائیں ہاتھ میں فریکچر ہوگیا اور سر پر شدید چوٹیں آئیں، جن کے لیے 13 ٹانکے لگانے پڑے۔
واقعہ بھارت کی باہمی ہم آہنگی پر سیدھا حملہ
ایسوسی ایشن نے اس حملے کو محض ایک مجرمانہ فعل نہیں بلکہ شناخت کی بنیاد پر تشدد کی سنگین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کی آئینی اقدار، قومی یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی پر سیدھے حملہ ہے۔






