
نگلہ دیش کے ڈھاکہ میں ایک خصوصی عدالت نے پورباچل پلاٹ گھوٹالہ کے سلسلے میں دائردو مقدمات میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو10 سال اوران کی بھتیجی برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ڈھاکہ کی خصوصی جج کی عدالت-4 کے جج محمد ربیع العالم نے شیخ حسینہ کی دوسری بھانجی عظمینہ صدیق اوربھتیجے رضوان مجیب صدیق بابی کوبھی دومقدمات میں سے ایک میں 7 سال قید کی سزا سنائی۔
شیخ حسینہ کو پھرسنائی گئی سزا
گزشتہ سال 27 نومبرسے یکم دسمبرکے درمیان شیخ حسینہ کوچاربدعنوانیوں سے متعلق معاملوں میں 26 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی بیٹی صائمہ جاوید پتُل اور بیٹے سجیب واجید جائے اوربہن شیخ ریحانہ اوربھتیجی ٹیولپ صدیق کوبھی چار-چارمعاملوں میں سے ایک میں قصوروارٹھہرایا گیا تھا۔ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق، اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) کے ذریعہ فائل کئے گئے ہرمعاملے کا ٹرائل 15 سماعت کے اندرپورا ہوگیا تھا۔ عدالت کے دستاویزسے پتہ چلتا ہے کہ ٹرائل کے دوران کل 39 لوگوں نے معاملوں میں گواہی دی۔ دیگرلوگوں کے علاوہ گواہوں میں اے سی سی کے تین افسر، راجوک کے تین اسسٹنٹ ڈائریکٹراورایک آفس اسسٹنٹ، ایک جوائنٹ سکریٹری اوروزارت ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس کے تین ملازمین، ڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن کے 4 ملازمین اورچیف ایڈوائزرآفس کے تین ملازمین شامل تھے۔
شیخ حسینہ کے اہل خانہ کوبھی سنائی گئیں سزائیں
78 سالہ شیخ حسینہ اوران کے خاندان کے تین افراد کے علاوہ، ملزمان میں سابق وزیرمملکت برائے ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس شریف احمد، سابق سکریٹریزشاہد اللہ خندکراورقاضی واشی الدین، سابق ایڈیشنل سیکرٹری محمد اولی اللہ سابق انتظامی افسرسیف الاسلام سرکاراورسابق سینئراسسٹنٹ سکریٹری پوربی گولڈردیگرملزمان میں راجوک کے سابق چیئرمین انیس الرحمان میاں شامل ہیں۔ سابق ممبران محمد خورشید عالم، تنموئے داس، محمد ناصرالدین، شمس الدین احمد چودھری اورنورالاسلام، موجودہ ڈائریکٹرقمرالاسلام، سابق ڈائریکٹرشیخ شاہین الاسلام، سابق ڈپٹی ڈائریکٹرنائب علی شریف سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹرمظہرالاسلام اورفاریہ سلطانہ اوروزیراعظم کے دفترکے سابق سکریٹری محمد صلاح الدین۔




