

لکھنؤ: بھوپال سے سابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے راہل گاندھی کے خلاف بیان پر سماجوادی پارٹی (ایس پی) نے سخت ردعمل دیا ہے۔ سادھوی پرگیا نے کہا تھا کہ ’’غیر ملکی خاتون کا بیٹا ملک پرست نہیں ہو سکتا اور وہ حکومت نہیں چلا سکتا‘‘۔ اس پر ایس پی کے ترجمان فخرالحسن چاند نے کہا کہ ملک کے لوگوں کو ایسے افراد سے ’سرٹیفکیٹ‘ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
پرگیا نے راہل گاندھی کا نام لیے بغیر دیا بیان
سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر نے کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا نام لیے بغیر تنقید کی۔ آئی اے این ایس سے گفتگو میں سادھوی نے کہا، ’’ہمارے سماج اور ملک میں چانکیا جیسے عظیم مفکر نے کہا تھا کہ ایک غیر ملکی خاتون کا بیٹا حکومت کرنے کے لائق نہیں ہو سکتا اور وہ کبھی ملک پرست نہیں ہو سکتا۔ یہ بات بالکل درست ہے۔‘‘
آخر کس کو پرگیا ٹھاکر کا ’سرٹیفکیٹ‘ چاہیے؟
ایس پی کے ترجمان فخرالحسن چاند نے جواب میں کہا، ’’آخر کس کو پرگیا سنگھ ٹھاکر کا ’سرٹیفکیٹ‘ چاہیے؟ کس کو ان کی نظریات رکھنے والے لوگوں سے یہ طے کرنے کے لیے سرٹیفکیٹ چاہیے کہ کون ملک پرست ہے اور کون نہیں؟ اس لیے ہمیں ایسے لوگوں کے نظریات پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی ملک کے عوام کو ایسے افراد سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت ہے۔‘‘
مندر اور مسجد کے مسائل پر چاند نے کیا کہا؟
اس دوران، فخرالحسن چاند نے کہا کہ مندر اور مسجد کے مسائل پر سماجوادی پارٹی کو کوئی بیان دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان مسائل پر ملک کا مستقبل نہیں ٹکتا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ملک کے نوجوان بیروزگاری اور مہنگائی جیسی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کے لیے اہم مسائل یہ ہیں کہ نوجوانوں کو روزگار ملے، مہنگائی کم ہو اور خواتین کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کیسے آگے بڑھے؟ لیکن ملک کی ترقی تبھی ممکن ہے جب ملک خوشحال ہوگا، نوجوانوں کے پاس روزگار ہوگا اور مہنگائی کم ہوگی۔‘‘







