
نئی دہلی: ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو موقع ملنے کا راستہ تقریباً صاف ہو چکا ہے۔ اگرچہ آئی سی سی کی جانب سے باضابطہ تحریری اعلان آنا ابھی باقی ہے۔ جیسے ہی آئی سی سی کی ریلیز جاری ہوگی، بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ورلڈ کپ میں انٹری طے ہو جائے گی۔
ایک رپورٹ کے مطابق، آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی جانب سے وضاحت کے آخری مرحلے تک انتظار کرنے کے بعد اب اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ اس معاملے پر آئی سی سی بورڈ پہلے ہی ووٹنگ کر چکا ہے، جس کے بعد جذباتی تبدیلی کی گنجائش نہ کے برابر رہ گئی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین الاسلام نے ’آخری لمحے کے معجزے‘ کے امکان کا ذکر ضرور کیا، لیکن حالات اس مرحلے سے آگے نکل چکے ہیں جہاں محض مثبت سوچ کو حکمتِ عملی سمجھا جا سکے۔
پاک نے کی تھی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت
آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو 21 جنوری تک یہ واضح اور حتمی فیصلہ دینے کی مہلت دی تھی کہ بنگلہ دیش کی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے بھارت جائے گی یا نہیں۔ اس سے قبل آئی سی سی بنگلہ دیش کی اس درخواست کو مسترد کر چکا تھا، جس میں اس نے بھارت کے خلاف اپنے میچ سری لنکا منتقل کرنے کی اپیل کی تھی۔ آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں بھی پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک نے بنگلہ دیش کے بھارت جا کر ورلڈ کپ نہ کھیلنے کے موقف کی حمایت نہیں کی تھی۔
میٹنگ کے بعد بنگلہ دیش کو ملا 24 گھنٹے کا وقت
بورڈ میٹنگ کے بعد بنگلہ دیش کو 24 گھنٹے کا اضافی وقت دیا گیا تھا اور واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ اگر وہ ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔
بنگلہ دیشی حکومت کے مشورے پر BCB کا فیصلہ
جمعرات کے روز بنگلہ دیشی حکومت کے مشورے پر بی سی بی نے یہ فیصلہ کیا کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہیں جائے گی۔ بنگلہ دیش حکومت کے کھیلوں کے مشیر آصف نذرل نے کہا، “بھارت میں نہ کھیلنے کا فیصلہ حکومت نے کیا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں کافی نہیں تھیں، کیونکہ آئی سی سی کا اپنا کوئی ملک نہیں ہے۔”
بنگلہ دیش کو نہیں رکھنی چاہئے کسی معجزے کی امید
نذرل نے اس موقع پر ایک پرانے واقعے کا بھی حوالہ دیا، جس میں بنگلہ دیش کے مطابق، سکیورٹی سے متعلق یقین دہانیوں کے باوجود ایک کھلاڑی کو محفوظ نہیں رکھا جا سکا تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے بھارت نہ آنے اور خود کو ورلڈ کپ سے باہر رکھنے کے فیصلے کے بعد اب اس عالمی ٹورنامنٹ میں اسکاٹ لینڈ کی شمولیت تقریباً یقینی ہو چکی ہے۔ صرف آئی سی سی کے باضابطہ اعلان کا انتظار ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے لیے کسی معجزے کی امید بے معنی نظر آتی ہے۔







