
نئی دہلی: دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو بدھ کے روز راؤز ایونیو کورٹ سے بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے جاری کردہ سمن کی مبینہ توہین سے متعلق معاملے میں خصوصی عدالت نے انہیں بری کر دیا۔ یہ فیصلہ دہلی ایکسائز پالیسی سے جڑی جانچ کے دوران ای ڈی کی طرف سے بھیجے گئے سمن پر پیش نہ ہونے کے معاملے میں سنایا گیا، جسے کیجریوال کے لیے ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ کی اسپیشل عدالت کے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ پارس دلال نے اس معاملے میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر اروند کیجریوال کے خلاف سمن کی توہین کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر فوجداری کارروائی کو جاری رکھنے کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے، اسی لیے ای ڈی کی شکایت کو خارج کیا جاتا ہے۔
درحقیقت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے فروری 2024 میں اروند کیجریوال کے خلاف عدالت میں عرضی دائر کی تھی۔ ای ڈی کا الزام تھا کہ کیجریوال نے پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعہ 50 کے تحت جاری کیے گئے سمن کی تعمیل نہیں کی۔ ایجنسی کے مطابق، جانچ کے لیے ان کی ذاتی پیشی ضروری تھی، لیکن وہ بار بار بھیجے گئے نوٹس کے باوجود ای ڈی کے سامنے حاضر نہیں ہوئے۔
ای ڈی نے دہلی ایکسائز پالیسی میں مبینہ گھوٹالے کی جانچ کے سلسلے میں مختلف تاریخوں پر مجموعی طور پر پانچ سمن جاری کیے تھے۔ ان تمام سمن کا مقصد منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت پوچھ گچھ کرنا تھا، تاہم اروند کیجریوال نے کسی بھی سمن پر پیشی نہیں دی۔ اس کے بعد ای ڈی نے اسے عدالتی توہین قرار دیتے ہوئے راؤز ایونیو کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
منی لانڈرنگ کی یہ جانچ دراصل مرکزی تفتیشی بیورو کی جانب سے درج کیے گئے ایک بنیادی مقدمے سے جڑی ہوئی ہے۔ سی بی آئی نے 17 اگست 2022 کو دہلی کی 2021-22 کی ایکسائز پالیسی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی تھی۔ یہ مقدمہ 20 جولائی 2022 کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی شکایت پر قائم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 22 اگست 2022 کو اسی معاملے میں منی لانڈرنگ کے پہلو سے الگ کیس درج کر کے جانچ شروع کی۔ اسی کیس کے تحت اروند کیجریوال کو بعد میں گرفتار بھی کیا گیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ تازہ عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں اسے کیجریوال کے لیے بڑی قانونی اور سیاسی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔







