
مہاراشٹر کی سیاست میں ایک تاریخی اور فیصلہ کن موڑ سامنے آیا ہے، جہاں ریاست کی 29 میونسپل کارپوریشنوں میں میئر کے عہدوں کے لیے ریزرویشن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق 50 فیصد خواتین ریزرویشن پالیسی کے تحت اس برس 15 شہروں میں میئر کا منصب خواتین کے پاس ہوگا، جو ریاستی سیاست میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح علامت ہے۔ میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد طویل انتظار کے بعد میئر کے عہدوں کے لیے ریزرویشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ یہ اعلان جمعرات کو ممبئی کے منترالیہ میں شہری ترقی کی ریاستی وزیر مادھوری مسل کی موجودگی میں کیا گیا۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ ریاست کی نصف سے زیادہ میونسپل کارپوریشنوں میں قیادت اب خواتین کے ہاتھوں میں ہوگی۔ سیاسی طور پر نہایت اہم سمجھے جانے والے بڑے شہر جیسے ممبئی، پونے، ناگپور اور ناسک میں خواتین کے لیے جنرل کیٹیگری کے تحت میئر کا عہدہ مختص کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب ان شہروں میں پہلی بار خواتین کو اعلیٰ شہری قیادت سنبھالنے کا موقع ملے گا، جس سے شہری ترقی کے عمل میں نئی سمت متوقع ہے۔
خواتین کے لیے کل 15 سیٹیں مختص
ریاست بھر میں مجموعی طور پر 15 میونسپل کارپوریشنوں میں خاتون میئر ہوں گی۔ ان میں ممبئی، پونے، ناگپور، ناسک، نوی ممبئی، دھولے، میرا بھائندر، مالیگاؤں اور سولاپور شامل ہیں، جہاں جنرل کیٹیگری میں خواتین کو نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ فہرست ظاہر کرتی ہے کہ شہری سیاست میں خواتین کا اثر اب محض علامتی نہیں رہا۔ پسماندہ طبقے کی خواتین کے لیے بھی نمایاں نمائندگی رکھی گئی ہے۔ او بی سی خواتین کے لیے اہلیانگر، جلگاؤں، اکولا اور چندرپور میں میئر کے عہدے محفوظ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ درج فہرست ذات کی خواتین کے لیے لاتور اور جلنا میں میئر کا منصب مختص کیا گیا ہے، جو سماجی انصاف کی سمت ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔
دوسری جانب 14 میونسپل کارپوریشنوں میں میئر کا عہدہ مرد یا اوپن کیٹیگری کے لیے رکھا گیا ہے۔ ان میں چھترپتی سمبھاجی نگر، تھانے، امراوتی، پربھنی، سانگلی-میراج-کپواڑ، کولہاپور اور پمپر ی-چنچواڑ شامل ہیں، جہاں روایتی سیاسی مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ او بی سی اوپن کیٹیگری کے تحت الہاس نگر، پنویل، کولہاپور اور اچلکرنجی میں میئر کے عہدے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ایس سی اور ایس ٹی اوپن کیٹیگری کے تحت تھانے میں ایس سی اور کلیان-ڈومبیولی میں ایس ٹی کے لیے میئر کا انتخاب ہوگا، جس سے سماجی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بدل گئی مہاراشٹر کی سیاست
اس ریزرویشن فیصلے کے بعد ریاست کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ کئی سینئر مرد سیاست دان، جو برسوں سے میئر بننے کی خواہش رکھتے تھے، اب نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں پارٹیوں کے اندر خواتین قیادت کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک مضبوط قدم ہے بلکہ اس سے شہری حکمرانی میں شفافیت، سماجی شمولیت اور ترقیاتی ترجیحات میں بھی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں مہاراشٹر کی شہری سیاست میں خواتین کا یہ عروج نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے۔







