
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا دہلی ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا۔ یہ دورہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال کے پس منظر میں دورہ
یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب مغربی ایشیا میں حالات کشیدہ ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ، غزہ میں جاری عدم استحکام اور یمن میں سعودی عرب اور یو اے ای سے جڑا تنازع خطے کی سلامتی کے لیے بڑے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، ان علاقائی امور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

اہم معاہدوں پر دستخط کا امکان
ذرائع کے مطابق، وزیراعظم مودی اور یو اے ای صدر کے درمیان ملاقات کے دوران خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری، غذائی تحفظ اور جوہری تعاون سے متعلق کئی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال بھی بات چیت کا اہم حصہ ہوگی۔
لوک کلیان مارگ پر ملاقات، مختصر مگر اہم دورہ
وزیراعظم نریندر مودی شام کے وقت یو اے ای صدر کی میزبانی 7، لوک کلیان مارگ پر کریں گے۔ شیخ محمد بن زاید النہیان کا یہ دورہ مختصر ہے اور وہ چند گھنٹوں کے بعد ہی بھارت سے روانہ ہو جائیں گے۔ یہ ملاقات دسمبر 2025 میں طے پائی تھی، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر اس میں تاخیر ہوئی۔
تیسرا سرکاری اور پانچواں مجموعی دورہ
یہ شیخ محمد بن زاید النہیان کا صدر بننے کے بعد بھارت کا تیسرا سرکاری دورہ اور گزشتہ ایک دہائی میں پانچواں مجموعی دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور مسلسل تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت اور یو اے ای کے درمیان 2022 میں جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (CEPA) کے بعد دو طرفہ تجارت اور عوامی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس معاہدے نے سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی تعاون کو نئی رفتار دی ہے۔
اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل
وزارت خارجہ کے مطابق، یہ دورہ حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا تسلسل ہے، جن میں ستمبر 2024 میں ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان اور اپریل 2025 میں یو اے ای کے نائب وزیراعظم و وزیر دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کا دورۂ بھارت شامل ہے۔
عالمی و علاقائی امور پر ہم آہنگی
وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کو اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے پہلوؤں پر غور کرنے اور عالمی و علاقائی مسائل پر خیالات کے تبادلے کا موقع فراہم کرے گی، جہاں بھارت اور یو اے ای کے مؤقف میں خاصی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔







