
واشنگٹن/بیجنگ: امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی اور تکنیکی کشیدگی کا اثر اب امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر کھل کر نظر آنے لگا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے منظوری ملنے کے باوجود چین نے دنیا کی سب سے قیمتی سیمی کنڈکٹر کمپنی اینویڈیا کی جدید ترین اور طاقتور آرٹیفیشل انٹیلیجنس چِپ ایچ-200 کی اپنے ملک میں انٹری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ چینی کسٹم حکام نے اس چِپ کے شپمنٹ کو سرحد پر ہی روک دیا، جس کے بعد اینویڈیا کو اس چِپ کی پیداوار روکنے کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اینویڈیا کو امید تھی کہ چینی کلائنٹس سے اسے ایچ-200 چِپ کے دس لاکھ سے زائد آرڈرز ملیں گے۔ اسی توقع کے تحت کمپنی کے ملازمین مسلسل اس چِپ کی تیاری میں مصروف تھے۔ تاہم اسی ہفتے چینی کسٹم حکام نے واضح کر دیا کہ ایچ-200 چِپ چین میں داخل نہیں ہو سکتی، جس سے اینویڈیا کو بڑا مالی اور اسٹریٹجک جھٹکا لگا ہے۔
چینی کمپنیوں کو وارننگ جاری
ذرائع کے مطابق چینی حکام نے نہ صرف شپمنٹ روکی بلکہ ملک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر انتہائی ضروری نہ ہو تو وہ ان امریکی چِپس کی خریداری سے گریز کریں۔ حکومت کی جانب سے جاری اس انتباہ کا مقصد چین کی گھریلو سیمی کنڈکٹر صنعت کو فروغ دینا اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اینویڈیا کی ایچ-200 چِپ کو اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور اے آئی چِپ مانا جاتا ہے، جس کا استعمال بڑے ڈیٹا سینٹرز، مشین لرننگ اور جدید مصنوعی ذہانت کے نظام میں کیا جاتا ہے۔ چین میں اس چِپ کی مانگ کافی زیادہ رہی ہے، لیکن موجودہ حالات میں بیجنگ اسے امریکی ٹیکنالوجی کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
بائیڈن حکومت نے عائد کی تھی پابندی
واضح رہے کہ سنہ 2023 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت نے قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے چین کو جدید چِپس کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔ اسی پابندی کے بعد اینویڈیا نے خاص طور پر چین کے لیے ایچ-200 چِپ تیار کی تھی تاکہ وہاں سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔ تاہم اپریل 2025 میں ٹرمپ حکومت نے بھی اس چِپ کی چین کو فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔
ٹرمپ حکومت نے دی اجازت
بعد ازاں اینویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے کئی مہینوں تک ٹرمپ انتظامیہ سے لابنگ کی، جس کے بعد چین کو ایچ-200 چِپ کی فروخت کی مشروط اجازت دی گئی۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اجازت ملنے کے باوجود خود چین نے اس چِپ کی انٹری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم امریکہ-چین ٹیکنالوجی جنگ میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔







