
کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے۔ پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے مزید لاشیں برآمد کیں، جبکہ آگ کے بعد اٹھنے والا دھواں اور سلگتی ہوئی راکھ کے باعث امدادی کارروائیاں احتیاط کے ساتھ انجام دی جا رہی ہیں۔
24 گھنٹے بعد قابو میں آئی آگ
یہ خوفناک آگ ہفتہ کی رات دیر گئے بھڑکی تھی، جس نے چند ہی گھنٹوں میں کثیر منزلہ عمارت کے بڑے حصے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ فائر بریگیڈ کے عملے کو آگ پر قابو پانے میں 24 گھنٹے سے زائد کا وقت لگا۔ پیر کو بھی عمارت کے اندرونی حصوں سے شعلے دکھائی دے رہے تھے، جس کے باعث کولنگ پروسیس اور ملبہ ہٹانے کا کام آہستگی سے کیا جا رہا ہے۔
![]()
مزید لاشیں برآمد، شناخت مشکل
جنوبی کراچی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے تصدیق کی کہ تازہ امدادی کارروائی کے دوران آٹھ مزید لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 14 ہو گئی۔ حکام کے مطابق بیشتر لاشیں ناقابل شناخت ہیں، جن کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا تاکہ ان کی لاشیں کنبے کی حوالے کی جاسکیں۔
60 سے زائد افراد لاپتہ
سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے جائے حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ 60 سے زیادہ افراد کا لاپتہ ہونا نہایت تشویشناک اور ایک بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ نہ صرف جانی بلکہ معاشی نقصان کا بھی باعث بنا ہے۔
تاجروں کا انتظامیہ پر الزام
حادثے سے متاثرہ تاجر اور دکاندار، جن کا روزگار مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو کئی قیمتی جانیں اور کاروبار بچائے جا سکتے تھے۔
آگ کی وجہ کی تحقیقات جاری
حکام کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق شارٹ سرکٹ یا برقی خرابی آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے، جس نے گنجان مارکیٹ میں تیزی سے پھیل کر تباہی مچا دی۔







