
نئی دہلی: اناو آبروریزی متاثرہ کے والد کی حراست میں موت معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ اس معاملے میں سزا کاٹ رہے اناوکے سابق رکن اسمبلی کلدیپ سینگرکوبڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے کلدیپ سینگرکی سزا معافی والی عرضی کوخارج کردیا ہے۔ دراصل، کلدیپ سنگھ سینگرنے اپنی سزا پرروک لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، جسے عدالت نے منسوخ کردیا ہے۔ اس عرضی پرجسٹس رویندرجڈیجہ نے فیصلہ سنایا۔ آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ حراست میں موت معاملے میں کلدیپ سنگھ سینگرکو10 سال کی سزا ملی ہے۔
عدالت نے نرمی برتنے سے کیا انکار
متاثرہ کے والد کی حراست میں ہوئی موت کے معاملے میں ماتحت عدالت نے 13 مارچ 2020 کوکلدیپ سنگھ سینگرکو10 سال کی سخت سزا کے ساتھ 10 لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی لگایا تھا۔ ماتحت عدالت نے کہا تھا کہ فیملی کے ایک واحد کمانے والے رکن کے قتل کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتی جاسکتی۔
سینگرسمیت 6 افراد کو ملی سزا
عدالت نے آبروریزی متاثرہ کے والد کی حراست میں ہوئی موت کے معاملے میں کلدیپ سینگرکے بھائی اتل سنگھ سینگراور پانچ دیگرافراد کوبھی 10 سال کی جیل کی سزا سنائی تھی۔ سینگر کے اشارے پرمتاثرہ کے والد کوآرمس ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا اور9 اپریل 2018 کوپولیس حراست میں ظلم وبربریت کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔
سال 2017 کا اناو آبروریزی معاملہ
سال 2017 میں نابالغ کا اغوا اورآبروریزی معاملے میں کلدیپ سینگر کو قصوروارپایا گیا تھا۔ ماتحت عدالت نے، یہ کہتے ہوئے کہ قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، کلدیپ سنگھ سینگر کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے تحت قتل کا مجرم نہیں ٹھہرایا، لیکن آئی پی سی کی دفعہ 304 کے تحت قتل نہ ہونے والے مجرمانہ قتل کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا سنائی۔







