
اقوام متحدہ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ افغانستان کی مشکلات فی الحال ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ اگرچہ اس وقت ملک میں کوئی بڑا مسلح تنازع نہیں چل رہا، لیکن انسانی حالات اس قدر سنگین ہیں کہ آنے والا سال 2026 بھی نہایت آزمائشوں والا ثابت ہوگا۔ اسی پس منظر میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا OCHA/ )نے افغانستان کے لیے نئی انسانی ضروریات اور امدادی منصوبہ پیش کیا ہے۔
2026 کے لیے 1.71 ارب ڈالر کی اپیل
اس منصوبے کے تحت اقوامِ متحدہ نے سال 2026 میں افغانستان کے لیے تقریباً 1.71 ارب ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔ اوچا کے مطابق، آئندہ سال بھی افغانستان دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں شامل رہے گا۔ حالات ایسے ہیں کہ کروڑوں افراد کی روزمرہ کی زندگی اب بھی بیرونی امداد پر منحصر ہے۔
کروڑوں افراد کو امداد کی ضرورت
اوچا کے تخمینے کے مطابق، 2026 میں تقریباً 2 کروڑ 19 لاکھ افراد کو کسی نہ کسی شکل میں انسانی امداد درکار ہوگی۔ اگرچہ یہ تعداد 2025 کے مقابلے میں کچھ کم ہے، مگر بحران کی شدت میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ ان میں سے تقریباً 1 کروڑ 74 لاکھ افراد شدید غذائی بحران کا سامنا کر سکتے ہیں، جبکہ لگ بھگ 47 لاکھ افراد ایسی سطح تک پہنچ سکتے ہیں جسے ہنگامی حالت قرار دیا جاتا ہے۔
کن لوگوں تک امداد پہنچے گی
شنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اقوامِ متحدہ سے وابستہ انسانی تنظیمیں 2026 میں ترجیحی بنیادوں پر تقریباً 1 کروڑ 75 لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر ضرورت مند آبادی کے تقریباً 80 فیصد افراد کو اس منصوبے کے دائرے میں لانے کا ہدف ہے۔ اس امداد میں خوراک، عارضی رہائش، صحت کی سہولیات، خواتین اور بچوں کے لیے غذائی معاونت، صاف پانی، صفائی کی سہولیات اور نقد امداد شامل ہوگی۔
امن کے باوجود بگڑتے حالات
اوچا نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ صرف تنازع نہیں ہے۔ اصل مسئلہ گہری معاشی اور سماجی کمزوریاں ہیں۔ ملک طویل عرصے سے غذائی عدم تحفظ، بے روزگاری اور کمزور بنیادی ڈھانچے کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی نمایاں ہیں—کہیں خشک سالی، کہیں سیلاب اور کہیں زلزلے جیسے قدرتی سانحات حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ بیماریوں کا پھیلاؤ اور سلامتی سے متعلق خطرات بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
خواتین اور بچوں پر زیادہ اثر
ان تمام چیلنجز کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور لڑکیوں پر پڑ رہا ہے۔ محدود مواقع، صحت کی سہولیات کی کمی اور سلامتی کے خطرات ان کے لیے حالات کو مزید دشوار بنا رہے ہیں۔اس کے علاوہ، سرحد پار سے واپس آنے والے افغان شہری بھی ایک بڑی تشویش ہیں۔ اوچا کے مطابق، صرف 2025 میں ہی ایران اور پاکستان سے 26 لاکھ سے زائد افغان اپنے وطن واپس لوٹے۔ اتنی بڑی تعداد میں واپسی نے مقامی آبادی، اسپتالوں، اسکولوں اور روزگار کے ذرائع پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔







