
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو آج ان کے شوہر اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ان کے انتقال پر تعزیت کے اظہار اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے مختلف ممالک کے نمائندے ڈھاکہ پہنچ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی خالدہ ضیاء کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ڈھاکہ پہنچے ہیں۔
ڈھاکہ پہنچنے کے بعد ایس جے شنکر نے خالدہ ضیاء کے بیٹے اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا تعزیتی پیغام بھی طارق رحمان کے حوالے کیا۔
بھارت میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ریاض حمید اللہ نے ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’معزز وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ڈھاکہ میں عوام کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا۔ بھارت سرکار نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جمہوریت میں ان کے کردار کو تسلیم کیا اور فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات کے ذریعے بنگلہ دیش میں جمہوری تبدیلی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ظاہر کی۔‘‘
اس دوران، بی ایس ایس نیوز کے مطابق پاکستان کی نیشنل اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق آج صبح سابق وزیر اعظم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے یہاں پہنچے۔ اس کے علاوہ، نیپال کے وزیر خارجہ بالا نند شرما اپنی حکومت کی جانب سے سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیاء کے سرکاری جنازے میں شرکت کے لیے ڈھاکہ پہنچے ہیں۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، اس وقت خالدہ ضیاء کا جسدِ خاکی مانک میا ایونیو میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو رہا ہے۔ صبح تقریباً 11:50 بجے، بنگلہ دیش کے قومی پرچم میں لپٹی ایک فریزر وین گلشن ایونیو سے مانک میا ایونیو پہنچی۔
فریزر وین صبح تقریباً 11:02 بجے سخت سکیورٹی کے درمیان طارق رحمان کے گھر سے روانہ ہوئی۔ جنازے میں شرکت کے لیے ہزاروں افراد وہاں جمع ہو گئے ہیں۔ فوج، پولیس، آر اے بی، بی جی بی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
نمازِ جنازہ کے بعد، خالدہ ضیاء کو شیرِ بنگلہ نگر کے ضیاء ادیان میں ان کے شوہر، مرحوم صدر ضیاء الرحمٰن کی قبر کے قریب دفن کیا جائے گا۔ ضیاء الرحمٰن کی قبر کے پاس پہلے ہی ایک قبر تیار کر لی گئی ہے۔






