
اکستان کی شدید معاشی بدحالی نے حکومت کو ایک اور بڑا اور تاریخی فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت والی حکومت نے ملک کی قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ سودا 135 ارب پاکستانی روپے میں طے پایا، جسے پاکستان کی تاریخ کے بڑے نجکاری سودوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے منگل کے روز پی آئی اے کی نجکاری کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان اس وقت سنگین مالی بحران سے گزر رہا ہے۔ آئی ایم ایف سمیت دوست ممالک کی مالی امداد کے باوجود معیشت سنبھلنے کے آثار کم نظر آ رہے ہیں۔ سرکاری اداروں پر بڑھتا خسارہ اور قرضوں کا بوجھ حکومت کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا تھا۔ ایسے میں خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی فروخت کو حکومت نے ناگزیر قرار دیا۔ پی آئی اے کی نجکاری کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں تین پری کوالیفائیڈ پارٹیوں نے نیلامی کے عمل میں حصہ لیا۔ ان میں معروف سیمنٹ ساز کمپنی لکی سیمنٹ، نجی ایئرلائن ایئر بلیو اور سرمایہ کاری فرم عارف حبیب شامل تھیں۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام بولیاں سیل بند لفافوں میں ایک شفاف باکس میں جمع کرائی گئیں اور بعد ازاں دوسرے مرحلے میں انہیں عوام کے سامنے کھولا گیا۔
بولیاں لگنے کے بعد سرمایہ کاری فرم عارف حبیب گروپ کا سب سے بڑی بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا۔ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ پی آئی اے کے لیے ریفرنس قیمت 100 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔ نیلامی کے قواعد کے مطابق ابتدائی مرحلے میں سب سے زیادہ بولی دینے والے دو گروپس کو مقابلے کا موقع دیا گیا۔ اس مرحلے میں عارف حبیب گروپ اور لکی سیمنٹ کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ دونوں گروپس نے یکے بعد دیگرے اپنی بولیوں میں اضافہ کیا، تاہم جب عارف حبیب گروپ نے 135 ارب روپے کی پیشکش کی تو لکی سیمنٹ کے نمائندے نے انہیں مبارک باد دے کر مقابلے سے دستبرداری اختیار کر لی۔
حکومتی منصوبے کے مطابق پی آئی اے کی 75 فیصد حصص فروخت کیے گئے ہیں، جبکہ کامیاب سرمایہ کار کو بقیہ 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے 90 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ معاہدے کی شرائط کے تحت ابتدائی 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد ایئرلائن میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ باقی 7.5 فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ نئے سرمایہ کار پر لازم ہوگا کہ وہ اگلے پانچ برسوں کے دوران پی آئی اے میں کم از کم 80 ارب روپے کی مزید سرمایہ کاری کرے۔
حکومت نے شفافیت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے بولی عمل کو مقامی ٹیلی ویژن چینلز پر براہِ راست نشر کیا۔ یہ پی آئی اے کو فروخت کرنے کی دوسری کوشش تھی۔ اس سے قبل گزشتہ سال بھی نجکاری کا عمل شروع کیا گیا تھا، مگر مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث اسے مؤخر کرنا پڑا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نجکاری کمیشن اور متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہا۔ واضح رہے کہ پی آئی اے کبھی دنیا کی ممتاز ایئرلائنز میں شمار کی جاتی تھی، مگر برسوں کی بدانتظامی، مالی خسارے اور ناقص حکمرانی نے اس کے وقار اور کارکردگی کو شدید نقصان پہنچایا۔ مسلسل خسارے کے باعث حکومت کے پاس اسے فروخت کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ سودا پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے حقیقی نتائج آنے والے برسوں میں ہی سامنے آئیں گے۔







