
مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہ نتن گڈکری نے دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنا ذاتی تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں تین دن قیام کرنے پر انہیں گلے میں انفیکشن یا الرجی ہو جاتی ہے۔ گڈکری نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آلودگی کا تقریباً 40 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر سے آتا ہے اور وہ خود اسی وزارت کے وزیر ہیں۔ادھر ان کے اس بیان پر عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج نے بی جے پی پر طنز کسا ہے۔کتاب کی رسمِ اجراء کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے نتن گڈکری نے کہا،’’دہلی آج آلودگی سے شدید متاثر ہے۔ میں خود جب دہلی میں دو تین دن قیام کرتا ہوں تو مجھے گلے میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔ میں سڑک ٹرانسپورٹ کا وزیر ہوں اور آلودگی کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہمارے ہی شعبے سے جڑا ہوا ہے۔‘‘انہوں نے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا ہم برقی گاڑیوں اور ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کو فروغ نہیں دے سکتے، جو زیرو آلودگی پیدا کریں گی۔
عام آدمی پارٹی کا طنز
نتن گڈکری کے اس بیان پر عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج نے بی جے پی پر طنز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہی کی مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ پھیپھڑوں کی بیماری (لنگز ڈیزیز) اور آلودگی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔
دہلی۔این سی آر میں فضائی معیار انتہائی خراب
گڈکری کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہلی۔این سی آر میں فضائی معیار انتہائی خراب ہو چکا ہے اور گریپ (GRAP) اسٹیج-4 نافذ کر دیا گیا ہے۔ زہریلی اسموگ کی موٹی تہہ نے دارالحکومت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے باعث صحت سے متعلق مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔نتن گڈکری نے اس مسئلے کو حب الوطنی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ درآمدات کم کرنا اور برآمدات بڑھانا ہی اصل حب الوطنی ہے، لیکن آلودگی اور فوسل فیول پر انحصار ہمیں پیچھے کی طرف کھینچ رہا ہے۔نتن گڈکری طویل عرصے سے متبادل ایندھن جیسے بایو فیول، الیکٹرک وہیکلز (EV) اور گرین ہائیڈروجن کی حمایت کرتے آ رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، تاہم متبادل توانائی کے ذرائع کے ذریعے اسے بڑی حد تک قابو میں لایا جا سکتا ہے۔






