
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی سرزمین سے اب تک کے سب سے بھاری سیٹلائٹ ایل وی ایم 3-ایم 6 اور امریکہ کے خلائی جہاز بلیو برڈ بلاک-2 کو اپنے مطلوبہ مدار میں کامیاب لانچ کرنے پر خلائی سائنسدانوں اور انجینئروں کو مبارکباد دی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ ہندوستان کے خلائی سفر میں ایک قابل فخر سنگ میل ہے اور آتم نربھر بھارت کی جانب کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایل وی ایم 3 کے قابل اعتماد ہیوی لفٹ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ، ہم مستقبل کے مشنوں جیسے کہ گگن یان، کمرشیل لانچ خدمات کو وسعت دینے اور عالمی شراکت داری کومستحکم کرنے کی بنیادکو مضبوط کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ “ہندوستان کے خلائی شعبے میں ایک اہم قدم… ہندوستانی سرزمین سے اب تک کے سب سے بھاری سیٹلائٹ ایل وی ایم-3 ایم 6 کا کامیاب لانچ اور یو ایس اے کے خلائی جہاز، بلیو برڈ بلاک-2 کو اپنے مطلوبہ مدار میں رکھنا، ہندوستان کے خلائی سفر میں ایک قابل فخر سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی ہیوی لفٹ لانچ کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے اور عالمی تجارتی لانچ مارکیٹ میں ہمارے بڑھتے ہوئے رول کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ ایک آتم نربھر بھارت کی طرف ہماری کوششوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے محنتی خلائی سائنسدانوں اور انجینئروں کو مبارکباد۔ ہندوستان خلا کے شعبہ میں مسلسل ترقی کر رہا ہے!”
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے نوجوانوں کی طاقت سے ہمارا خلائی پروگرام مزید ترقی یافتہ اور اثر انگیز ہوتا جا رہا ہے۔ ایل وی ایم-3 کے قابل اعتماد ہیوی لفٹ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ہم مستقبل کے مشنوں جیسے کہ گگن یان، کمرشیل لانچ خدمات کو وسعت دینے اور عالمی شراکت داری کو مستحکم کرنے کی بنیادکو مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ بڑھتی ہوئی صلاحیت اور خود انحصاری کا فروغ آنے والی نسلوں کے لیے شاندار ہے۔
یہ اہم لانچ 24 دسمبر کی صبح 8 بج کر 54 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے انجام دیا گیا۔ اسرو کے طاقتور راکٹ ایل وہی ایم-3 نے اپنی چھٹی آپریشنل پرواز کے دوران اس مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔ اس مشن کو ایل وہی ایم3-ایم6 کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت امریکہ کی بلیو برڈ بلاک-2 سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجا گیا۔ یہ اسرو کی کمرشل بازو نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) اور امریکہ کی معروف کمپنی اے ایس ٹی اسپیس موبائل کے درمیان ایک تاریخی معاہدے کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت اسرو نے عالمی سطح پر موبائل کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کی سمت ایک مضبوط قدم اٹھایا ہے۔ اس سیٹلائٹ کے ذریعے دور دراز اور نیٹ ورک سے محروم علاقوں میں بھی تیز رفتار موبائل سروس دستیاب ہو سکے گی۔







