
نئی دہلی: نیشنل ہیرالڈ سے وابستہ منی لانڈرنگ کیس میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ 16 دسمبر 2025 کو دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت کے اس فیصلے کو کانگریس قیادت کے لیے اہم پیش رفت مانا جا رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ای ڈی اگر چاہے تو اس معاملے میں اپنی جانچ جاری رکھ سکتی ہے۔اس کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اپنی چارج شیٹ میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، سیم پترودا، سمن دوبے، سنیل بھنڈاری، ینگ انڈین اور ڈوٹیکس مرچنڈائز پرائیویٹ لمیٹڈ کو نامزد کیا تھا۔ کانگریس کی جانب سے عدالت میں یہ دلیل دی گئی کہ یہ جانچ سیاسی انتقام کے تحت کی جا رہی ہے، جب کہ ای ڈی کا موقف ہے کہ یہ ایک سنگین اقتصادی جرم ہے، جس میں دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے شواہد موجود ہیں۔
ای ڈی کا الزام ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے ایک منظم سازش کے تحت ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کی تقریباً دو ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کے لیے اسے نجی کمپنی ینگ انڈین کے ذریعے محض پچاس لاکھ روپے میں حاصل کیا۔ ای ڈی کے مطابق اس کمپنی میں سونیا اور راہل گاندھی کے پاس 76 فیصد حصص ہیں۔ جانچ ایجنسی نے اس معاملے میں جرم سے حاصل شدہ آمدنی 988 کروڑ روپے قرار دی ہے، جب کہ متعلقہ جائیدادوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً پانچ ہزار کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
چارج شیٹ داخل کرنے سے پہلے ای ڈی نے 12 اپریل 2025 کو اس کیس سے جڑی جائیدادوں کی ضبطی کی کارروائی بھی کی تھی۔ دہلی کے ہیرالڈ ہاؤس، ممبئی کے باندرہ ایسٹ اور لکھنؤ کے وشیشور ناتھ روڈ پر واقع اے جے ایل کی عمارتوں پر نوٹس چسپاں کیے گئے تھے۔ ان 661 کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادوں کے علاوہ اے جے ایل کے 90.2 کروڑ روپے کے شیئرز بھی نومبر 2023 میں ضبط کیے گئے تھے۔ نیشنل ہیرالڈ کیس کا تعلق اس تاریخی اخبار سے ہے جس کی بنیاد 1938 میں جواہر لعل نہرو نے پانچ ہزار آزادی کے مجاہدین کے ساتھ مل کر رکھی تھی۔ اس اخبار کی اشاعت اے جے ایل کے تحت ہوتی تھی، قابل ذکر بات یہ ہےکہ 2008 میں یہ بند ہو گیا۔ بعد ازاں اس کے حصول اور جائیدادوں سے متعلق تنازع اور مبینہ گھوٹالے سامنے آئے، جس کے بعد یہ معاملہ عدالت اور تفتیشی ایجنسیوں تک پہنچا۔







