
مان: وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز بھارت–اردن بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی سمت گامزن ہے اور ملک کی ترقیاتی شرح 8 فیصد سے زائد ہے، جو پیداواری، طرز حکمرانی اور اختراع (انوویشن) پر مبنی پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ دور میں بھارت میں اردن کے سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور وہ بھارت میں سرمایہ کاری کر کے بہتر منافع حاصل کر سکتے ہیں۔
فارما اور طبی آلات کے شعبے میں وسیع امکانات
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور اردن کے درمیان فارماسیوٹیکل اور میڈیکل آلات کے شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ آج صحت کا شعبہ محض ایک اقتصادی میدان نہیں رہا بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک ترجیح بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی کمپنیاں اردن میں ادویات اور طبی آلات تیار کرتی ہیں تو اس سے نہ صرف اردن کے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ اردن، افریقہ اور مغربی ایشیا کے لیے ایک قابلِ اعتماد طبی مرکز کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی میں اشتراک پر زور
قابلِ تجدید توانائی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ آج کی دنیا گرین گروتھ کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ صاف توانائی اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت شمسی توانائی، ہوائی توانائی، گرین ہائیڈروجن اور انرجی اسٹوریج کے شعبوں میں ایک بڑا سرمایہ کار بن کر ابھرا ہے، جبکہ اردن کے پاس بھی ان میدانوں میں نمایاں امکانات موجود ہیں جنہیں دونوں ممالک مل کر بروئے کار لا سکتے ہیں۔
آٹوموبائل، ای وی اور سی این جی موبیلیٹی
پی ایم مودی نے کہا کہ آٹوموبائل اور الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کے شعبے میں بھی اشتراک کے وسیع امکانات ہیں۔ بھارت کم لاگت ای وی، دو پہیہ گاڑیوں اور سی این جی موبیلیٹی کے میدان میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے اور دونوں ممالک کو اس شعبے میں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ثقافت، ورثہ اور فلمی تعاون
دونوں ممالک کی مضبوط تہذیبی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اور اردن اپنی ثقافت اور تاریخی ورثے پر فخر کرتے ہیں۔ ثقافتی اور ورثہ جاتی سیاحت کے فروغ کے لیے دونوں ملکوں میں وسیع گنجائش موجود ہے، جس میں سرمایہ کار اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں بڑی تعداد میں فلمیں بنتی ہیں، جن کی شوٹنگ اردن میں کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مشترکہ فلم فیسٹیولز کے انعقاد کے لیے بھی ضروری ترغیبات فراہم کی جا سکتی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔







