
مان: وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز عَمان میں اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران اعلان کیا کہ بھارت اور اردن آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو بڑھا کر 5 ارب امریکی ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتے ہیں۔
اقتصادی و تجارتی تعاون کو نئی رفتار دینے پر زور
ایک سرکاری بیان کے مطابق بھارت اس وقت اردن کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قریبی اشتراک کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
75 سالہ سفارتی تعلقات: تاریخی سنگ میل
ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ عَمان میں شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ نہایت مثبت اور بامعنی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور اردن اپنے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، جو دونوں ممالک کو مستقبل میں مزید مضبوط شراکت داری کی ترغیب دیتا رہے گا۔
ڈیجیٹل ادائیگی اور یو پی آئی میں تعاون کی تجویز
وزیراعظم نے اردن کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور بھارت کے یونفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) کے درمیان تعاون کی بھی حمایت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ اردن بھارت کے لیے کھاد کا ایک اہم سپلائر ہے اور بھارت میں فاسفیٹک کھاد کی بڑھتی طلب کو پورا کرنے کے لیے اردن میں مشترکہ سرمایہ کاری پر بات چیت جاری ہے۔
پرتپاک استقبال اور اعلیٰ سطحی مذاکرات
اس سے قبل شاہ عبداللہ دوم نے وزیر اعظم نریندر مودی کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور انہیں باضابطہ ریاستی اعزاز سے نوازا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان محدود سطح اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں بھارت–اردن کے تاریخی، دوستانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف
شاہ عبداللہ دوم نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کی اور دہشت گردی کی تمام صورتوں اور مظاہر کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے خلاف عالمی سطح پر شاہ عبداللہ کی قیادت اور کردار کی تعریف کی۔
متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
ملاقات کے دوران تجارت و سرمایہ کاری، دفاع و سلامتی، قابل تجدید توانائی، کھاد و زراعت، آئی ٹی و ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ، صحت و فارما، تعلیم، سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔
اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
اس موقع پر ثقافت، قابل تجدید توانائی، آبی وسائل کے انتظام، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور پیٹرا–ایلورا کے درمیان ٹوئننگ انتظام سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کو حتمی شکل دی گئی، جن سے بھارت–اردن تعلقات کو نئی جہت ملنے کی امید ہے۔
سرکاری ضیافت اور بھارت دورے کی دعوت
مذاکرات کے بعد شاہ عبداللہ دوم نے وزیراعظم مودی کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے شاہ عبداللہ دوم کو بھارت کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔







