
ئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اردن نے بھارت اور اردن کے باہمی تعلقات کو نئی سمت اور مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان توانائی، آبی وسائل کے انتظام، ثقافت، وراثت کے تحفظ اور ڈیجیٹل تعاون سمیت کئی اہم معاہدے طے پائے، جن سے دوطرفہ شراکت داری کو مزید فروغ ملے گا۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پراپنے پیغام میں کہا کہ یہ نتائج بھارت اور اردن کی شراکت داری میں ایک اہم توسیع کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون سے صاف ستھری ترقی، توانائی کے تحفظ اورماحولیاتی ذمہ داری کو تقویت ملے گی۔ اسی طرح آبی وسائل کے انتظام میں شراکت داری سے تحفظ اورجدید ٹیکنالوجی کے بہترین طریقوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئرکرنے کا موقع ملے گا، جس سے طویل مدت میں پانی کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے بتایا کہ اردن کے تاریخی مقام پیٹرا اور بھارت کے ایلورہ غاروں کے درمیان ٹوئننگ معاہدہ وراثت کے تحفظ، سیاحت کے فروغ اور تعلیمی تبادلے کے نئے امکانات پیدا کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ثقافتی تبادلہ پروگرام کی تجدید، جو 2025 سے 2029 تک مؤثر رہے گی، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں اور باہمی سمجھ بوجھ کو مزید گہرا کرے گی۔ڈیجیٹل تعاون پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت کی ڈیجیٹل اختراعات اردن کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں مددگار ثابت ہوں گی اور شفاف و جامع طرزِ حکمرانی کو فروغ دیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات کو بہتر اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
معاہدے
* نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تکنیکی تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت
* آبی وسائل کے انتظام اور ترقی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامہ
* پیٹرا اور ایلورا کے درمیان ٹوئننگ معاہدہ
* سال 2025 تا2029 کے ثقافتی تبادلے کے پروگرام کی تجدید
* ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے آبادی کے پیمانے پر نافذ کیے گئے کامیاب ڈیجیٹل حل کے اشتراک کے شعبے میں تعاون پر لیٹر آف انٹینٹ
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق اس دورے کے دوران مجموعی طور پر پانچ بڑے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں طے پائیں۔ ان میں قابلِ تجدید توانائی میں تکنیکی تعاون، آبی وسائل کے انتظام، پیٹرا اور ایلورہ کے درمیان ٹوئننگ معاہدہ، ثقافتی تبادلہ پروگرام اور ڈیجیٹل تعاون پر مفاہمتی یادداشت شامل ہیں۔ ان معاہدوں سے مستقبل میں بھارت اور اردن کے تعلقات کو مزید وسعت اور گہرائی ملنے کی توقع ہے۔







