سرکاری ملازمین جنوری 2026 کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ آٹھویں پے کمیشن کے مطابق انھیں تنخواہ ملنے لگے گی۔ حالانکہ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آٹھواں پے کمیشن نافذ ہونے میں 2 سال کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ انگریزی روزنامہ ’فنانشیل ایکسپریس‘ کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ آٹھویں پے کمیشن کی سفارش جنوری 2026 سے نافذ ہونی تھی، لیکن ترمیم شدہ تنخواہ اور پنشن تبدیلی 2027 سے قبل ملنا مشکل نظر آ رہا ہے۔
یہ خبر سرکاری ملازمین کے لیے مایوسی والی ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ 2027 میں جب بھی سرکاری ملازمین اور پنشن حاصل کرنے والوں کو ترمیم شدہ تنخواہ ملے گی، تو اس کے ساتھ ہی 12 مہینے کا ایریئر بھی حکومت کی طرف سے دیا جائے گا۔ یعنی جب بھی آٹھویں پے کمیشن کے مطابق پہلی تنخواہ ملے گی، تو جنوری 2026 سے جوڑ کر بقیہ رقم بھی دی جائے گی۔
سامنے آئی رپورٹ کے مطابق آٹھویں پے کمیشن کی سفارش 2027 سے پہلے نافذ ہونا مشکل ہے، کیونکہ نئی کمیشن تشکیل دیے جانے کے 15 سے 18 ماہ میں وہ اپنی سفارشات کو شکل دے گا۔ ساتھ ہی کمیشن آخری سفارشات پیش کرنے سے پہلے ایک عبوری رپورٹ بھی پیش کر سکتا ہے۔ لیکن آٹھویں پے کمیشن کی مکمل رپورٹ 2026 کے آخر تک ہی سامنے آئے گی۔ گزشتہ پے کمیشنوں کے طریقۂ کار کو دیکھتے ہوئے حکومت حتمی رپورٹ جمع ہونے کے بعد ہی تجزیہ اور نفاذ کا عمل انجام دے گی۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ تنخواہ اور پنشن میں اضافہ 2027 کے شروع تک ہی نافذ ہو پائے گا۔
موصولہ اطلاع کے مطابق مودی کابینہ اپریل میں ہی 8ویں پے کمیشن کی شرائط (ٹی او آر) کو منظوری دے سکتی ہے۔ ساتھ ہی حکومت کمیشن کی تشکیل سے متعلق آخری مراحل میں ہے اور کابینہ سے منظوری ملتے ہی آفیشیل نوٹیفکیشن جاری کر دی جائے گی۔ اس کے بعد کمیشن اپریل 2025 سے اپنا کام شروع کر سکتا ہے۔