
کابل: افغانستان کے شمالی حصے میں 5.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ افغان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان محمد یوسف حماد نے اس کی تصدیق کی ہے۔ محمد یوسف حماد نے جمعہ دیر رات بتایا کہ زلزلے کے بعد کابل صوبے میں ایک مکان منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ دارالحکومت کابل میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز ابتدائی طور پر 36.55 ڈگری شمالی عرض البلد اور 70.85 ڈگری مشرقی طول البلد پر پایا گیا۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً 186.4 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
دہلی این سی آر اور شمالی بھارت میں بھی جھٹکے
جمعہ کی رات دہلی این سی آر اور شمالی بھارت کے کئی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ گھروں اور دفتری عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ دہلی، نوئیڈا، گروگرام، غازی آباد اور فرید آباد سمیت کئی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
احتیاط کے طور پر لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
لوگوں کے مطابق اچانک جھٹکے محسوس ہونے لگے جس سے فرنیچر اور گھروں میں رکھی اشیاء ہلنے لگیں۔ کئی افراد نے بتایا کہ جھٹکے چند سیکنڈ تک رہے لیکن اتنے شدید تھے کہ گھروں کے اندر بھی واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ کئی رہائشی علاقوں میں لوگوں نے احتیاطی طور پر اپنے گھروں سے باہر نکلنا مناسب سمجھا، جبکہ دفاتر میں موجود افراد بھی کچھ دیر کے لیے عمارتوں سے باہر آ گئے۔
افغانستان زلزلوں کے لحاظ سے حساس خطہ
افغانستان میں مختلف قدرتی آفات آتی رہتی ہیں، اس لئے زلزلوں سے سب سے زیادہ جانی نقصان ہوتا ہے۔ ہر سال اوسطاً تقریباً 560 افراد ہلاک ہوتے ہیں اور تقریباً 80 ملین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ مطالعات کے مطابق 1990 سے اب تک افغانستان میں 5.0 شدت سے زیادہ کے کم از کم 355 زلزلے آ چکے ہیں۔
ٹیکٹونک پلیٹس کی وجہ سے زلزلے
افغانستان یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ کے کنارے واقع ہے جو انڈین پلیٹ کے ساتھ ملتی ہے، جبکہ اس کے جنوب میں عربین پلیٹ کا بھی اثر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ انڈین پلیٹ کا شمال کی طرف بڑھنا اور یوریشین پلیٹ سے اس کا ٹکراؤ افغانستان میں آنے والے کئی زلزلوں کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
سرحدی علاقے زیادہ حساس
مشرقی اور شمال مشرقی افغانستان، خاص طور پر ازبکستان، تاجکستان اور پاکستان سے ملحقہ علاقے زلزلوں کے لحاظ سے زیادہ حساس ہیں۔ ان میں گنجان آبادی والا کابل بھی شامل ہے، جہاں ہر سال اوسطاً تقریباً 17 ملین ڈالر کے نقصان کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں زلزلے خاص طور پر خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ لینڈ سلائیڈ کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے جانی و مالی نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔







