
راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے کہا کہ یہ جنگ اب ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اس کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس جنگ کے باعث دنیا میں کئی طرح کے بحران پیدا ہو گئے ہیں۔ سنجے راوت نے کہا کہ اس تنازعے کی وجہ سے پوری دنیا میں ایندھن اور ایل پی جی جیسی ضروری اشیا کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے بھی بڑا خطرہ ماحولیات اور انسانی صحت سے جڑا ہوا ہے، جو آہستہ آہستہ بھارت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث ایران میں بننے والے سیاہ بادل بم سے کم خطرناک نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت پر نہ میزائل گر رہے ہیں اور نہ بم، لیکن ایران کے اوپر چھائے یہ “سیاہ بادل” بھارت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے اطراف کے علاقوں میں فضائی حملوں کے باعث آئل ریفائنری اور گیس ذخائر میں شدید آگ بھڑک اٹھی ہے، جس سے بڑی مقدار میں زہریلا دھواں فضا میں پھیل گیا ہے۔
ایران میں لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا
سنجے راوت نے کہا کہ اس دھویں میں سلفر، نائٹروجن آکسائیڈ اور دیگر خطرناک کیمیکل شامل ہیں، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے بلیک رین اور اس سے پیدا ہونے والے صحت کے بحران کی طرف بھی توجہ دلائی۔ شیوسینا یو بی ٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ ایران کے کچھ علاقوں میں “بلیک رین” یعنی کالی بارش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو زہریلے عناصر سے بھری ہوئی ہے۔
بھارت کی مغربی ریاستیں جیسے گجرات، راجستھان اور پنجاب اس سے متاثر ہو سکتے ہیں
انہوں نے عالمی ادارہ صحت کی وارننگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال انسانی صحت کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے حوالے سے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ آلودگی صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی۔ مستقبل میں بھارت کی مغربی ریاستیں جیسے گجرات، راجستھان اور پنجاب اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہوا کا معیار خراب ہوگا بلکہ تیزابی بارش کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، جس سے فصلیں تباہ ہونے، زمین آلودہ ہونے اور سانس کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر جیسے سنگین امراض میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ راوت نے کہا کہ ماحولیاتی ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے، جو بھارت پر ممکنہ اثرات کا سائنسی جائزہ لے۔ خاص طور پر مغربی ریاستوں میں ایئر کوالٹی مانیٹرنگ بڑھائی جائے اور الرٹ سسٹم تیار رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو بین الاقوامی فورمز پر اس ماحولیاتی بحران کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے تاکہ جنگ جلد ختم ہو سکے۔
سیاہ بادل صرف تہران کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ
راجیہ سبھا میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ جنگ اب صرف علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ عالمی ماحولیاتی اور صحت کے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ سیاہ بادل صرف تہران کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہیں۔ اگر ابھی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بہت دیر ہو سکتی ہے۔” راوت کا کہنا تھا کہ جنگ کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ماحولیات، صحت اور معیشت کے ذریعے دنیا کے کئی خطوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔







