نئی دہلی : ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شامل ہونے والے رکن پارلیمنٹ جگدیش چندر برما بسونیا نے دیگر این سی پی آئی ارکان پارلیمنٹ کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے اے بی پی نیوز سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ درگا پوجا سے پہلے 17 این سی پی آئی ارکان پارلیمنٹ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے والے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان میں 3 اقلیتی ارکان پارلیمنٹ شامل نہیں ہیں۔
17 ارکان بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں
اے بی پی نیوز سے بات چیت میں این سی پی آئی کے رکن پارلیمنٹ جگدیش چندر برما بسونیا نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ ابو طاہر اور خلیل الرحمن کو الگ الگ محکمے دیے جائیں گے اور وہ این ڈی اے کی حمایت بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے انتخابی حلقے میں زیادہ تر علاقے اقلیتی آبادی والے ہیں، اس لیے وہ براہ راست بی جے پی میں شامل نہیں ہو سکتے۔ ایسا کرنے سے انہیں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جگدیش چندر برما بسونیا کا بیان
این سی پی آئی رکن پارلیمنٹ بسونیا نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے ہی ہمیں این سی پی میں شامل کرایا تھا، لیکن ہم سب بی جے پی میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ ممتا بنرجی کی پارٹی چھوڑ کر این سی پی آئی میں آنے والے رکن پارلیمنٹ جگدیش برما بسونیا نے کہا کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہم میں سے 20 میں سے 17 ارکان پارلیمنٹ درگا پوجا سے پہلے ہی بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ کوچ بہار سے رکن پارلیمنٹ جگدیش چندر برما بسونیا اتوار کو سخت پولیس سکیورٹی کے درمیان اپنے گھر واپس لوٹے۔ ان کے واپس آنے کی خبر پھیلتے ہی ستائی میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی۔ اس کے بعد ستائی بس اسٹینڈ علاقے میں واقع ٹی ایم سی دفتر میں مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگا دی گئی۔ مقامی افراد اور بی جے پی کارکنوں کے ایک گروپ نے رکن پارلیمنٹ کے گھر کے سامنے پہنچ کر احتجاج بھی کیا۔
بسونیا پر بدعنوانی کے الزامات
مظاہرین نے رکن پارلیمنٹ پر گزشتہ 15 سال کے دوران اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے بدعنوانی کے ذریعے جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا۔ اس کے علاوہ ان پر رائس مل سمیت کئی کاروباری ادارے قائم کرنے کے بھی الزامات لگائے گئے۔ مظاہرین نے ان کے ٹی ایم سی چھوڑ کر این سی پی آئی میں شامل ہونے کو لے کر بھی نشانہ بنایا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ جگدیش چندر برما بسونیا پہلے فارورڈ بلاک میں تھے، اس کے بعد ترنمول کانگریس میں آئے اور اب بی جے پی میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ انہیں یا ان کے حامیوں کو بی جے پی میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد ستائی کا سیاسی ماحول کافی گرم نظر آ رہا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







